ایران سے 3 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی واپسی، 714 ایرانی شہری بھی پاکستان پہنچ گئے
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور کشیدہ صورت حال کے باعث وہاں موجود پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
بڑی تعداد میں ایرانی باشندے بھی بلوچستان کے زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے پناہ لینے پاکستان پہنچ گئے۔
پاکستانی و غیرملکی باشندے بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع چاغی میں تفتان میرجاواہ اور ساحلی ضلع گوادر میں گبد رمدان کی زمینی سرحد سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب شاہوانی کے مطابق 28 فروری سے 4 مارچ تک تفتان سرحد سے مجموعی طور پر 2398 افراد کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
ان کے مطابق پاکستان آنے والوں میں 47 سیاح، 157 کاروباری افراد، 90 زائرین، سفارتی عملے کے 37 اہلکار، 954 طلبہ اور 381 ڈرائیور شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر چاغی نے بتایا کہ 714 ایرانی شہری بھی اس دوران تفتان سرحد کے ذریعے پاکستان داخل ہوئے جبکہ آسٹریلیا اور قازقستان کے دو دو، ازبکستان اور ڈنمارک کا ایک ایک شہری بھی پاکستان آنے والوں میں شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر چاغی کے مطابق سرحد پر تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور مسافروں کی آمد و رفت کو منظم انداز میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب گوادر کے گبد رمدان سرحد کے ذریعے بھی ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کا عمل پانچویں روز بھی جاری رہا۔ حکام کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وطن واپس آنے والے شہریوں کے لیے سہولیات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق گبد رمدان سرحد کے ذریعے جمعرات کو مزید 216 افراد پاکستان پہنچے جن میں 64 طلبہ بھی شامل ہیں جبکہ سرحد عبور کرنے والوں میں عمان کا ایک شہری بھی شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے مطابق گذشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی طور پر 716 افراد وطن واپس پہنچ چکے ہیں جن میں 225 طلبہ شامل ہیں جو ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واپس آنے والے مسافروں کے لیے رہائش، کھانے پینے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ انہیں محفوظ طریقے سے ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کے لیے بھی مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرحد پر تمام تر اقدامات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں تاکہ مشکل حالات میں وطن واپس آنے والے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
