Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صومالیہ کی باہم جڑی ہوئی بچیوں رحمہ اور رملا کا ریاض میں کامیاب آپریشن

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ جو سعودی کونجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ اور شاہ سلمان مرکز کے جنرل سپروائزر ہیں، نے کہا کہ ’کامیاب آپریشن کے بعد دونوں بچیوں کو علیحدہ بیڈز پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

رحمہ اور رملا کو ریاض میں وزارت نیشنل گارڈ کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ ہسپتال میں چار دن قبل کامیابی سے ایک دوسرے سے الگ کیا گیا تھا۔

جڑی ہوئی بچیوں کو جدا کرنے کی سرجری آٹھ مراحل میں تقریباً 14 گھنٹے میں مکمل کی جاتی ہے۔ اس میں اینستھیزیا، پیڈیا ٹرکس، آرتھو پیڈکس اور پلاسٹک سرجری کے شعبے کے37 کنسلٹنٹس،ماہرین، نرسیں اورعملہ شامل ہوتا ہے۔
شاہ سلمان کی ہدایت پر جڑی ہوئی بچیوں کو گزشتہ برس چھ مئی کو والدین کے ہمراہ سعودی عرب لایا گیا تھا۔ انہیں ضروری ٹیسٹ اور طبی نگہداشت کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ 
ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ ’رملا کے دونوں گردوں میں خرابی ہے اور جدا ہونے کے بعد فوری ڈائیلائسز کی ضرورت ہوگی۔‘
جبکہ رحمہ کے دائیں گردے میں سسٹس ہیں جو فی الحال مناسب طریقے سے کام کر رہے ہیں لیکن سرجری کے بعد نگرانی کی ضرورت ہوگی۔

سعودی عرب جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ملک ہے۔ مملکت کی ان کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر کے ممالک اور تنظیمیں کر رہی ہیں۔  
1990 سے اب تک اس طرح کے کامیاب آپریشنوں میں سعودی عرب نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ 35 برسوں کے دوران سعودی عرب میں 28 ممالک کے 68 جڑے ہوئے بچوں کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔

 

شیئر: