صومالیہ کی باہم جڑی بچیوں ’رحمہ‘ اور ’رملا‘ کا ریاض میں کامیاب آپریشن
سرجری آٹھ مراحل میں تقریبا چودہ گھنٹے میں مکمل کی جاتی ہے( فوٹو: ایس پی اے)
صومالیہ کی باہم جڑی ہوئی بچیوں ’رحمہ‘ اور ’رملا‘ کو ریاض میں وزارت نیشنل گارڈ کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ ہسپتال میں کامیابی سے ایکدوسرے سے الگ کردیا گیا۔
ڈاکٹرعبداللہ العربیہ جو سعودی کنجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کی میڈیکل ٹیم کے سربراہ اور شاہ سلمان مرکز کے سپروائزر جنرل ہیں کہا کہ’ آپریشن کے تین مرحلے باقی ہیں، آپریشن تین گھنٹے میں مکمل ہونے کی امید ہے۔‘
جڑی ہوئی بچیوں کو جدا کرنے کی سرجری آٹھ مراحل میں تقریبا 14 گھنٹے میں مکمل کی جاتی ہے۔ اس میں اینستھیزیا، پیڈیا ٹرکس، آرتھو پیڈکس اور پلاسٹک سرجری کے شعبے کے37 کنسلٹنٹس،ماہرین، نرسیں اورعملہ شامل ہوتا ہے۔
شاہ سلمان کی ہدایت پر جڑی ہوئی بچیوں کو گزشتہ برس چھ مئی کو والدین کے ہمراہ سعودی عرب لایا گیا تھا۔ انہیں ضروری ٹیسٹ اور طبی نگہداشت کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹرعبداللہ العربیہ نے بتایا کہ ’رملا کے دونوں گردوں میں خرابی ہے اور جدا ہونے کے بعد فوری ڈائیلائسز کی ضرورت ہوگی۔‘
جبکہ رحمہ کے دائیں گردے میں سسٹس ہیں جو فی الحال مناسب طریقے سے کام کر رہے ہیں لیکن سرجری کے بعد نگرانی کی ضرورت ہوگی۔
یاد رہے سعودی عرب جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
مملکت کی ان کاوشوں کا اعتراف دنیا بھر کے ممالک اور تنظیمیں کر رہی ہیں۔
1990 سے اب تک اس طرح کے کامیاب آپریشنوں میں سعودی عرب نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔35 برسوں کے دوران سعودی عرب میں 28 ممالک کے 68 جڑے ہوئے بچوں کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔
