ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی، ’پاکستان کے لیے تاریخی موقع‘

سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے ساتھ پاکستان میں دس برس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ بحال ہونے جا رہی ہے۔
 11 دسمبر کا دن پاکستان کرکٹ میں ایک تاریخ ساز دن ہوگا جب راولپنڈی کے پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔ 
2009  میں قدافی سٹیدیم لاہور کے باہر سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر ہوم کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے۔ دس سال بعد سری لنکن ٹیم کا دورہ پاکستان اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جو سلسلہ قدافی سٹیدیم میں رکا تھا اب دس سال بعد پنڈی کرکٹ سٹیڈیم سے بحال ہو رہا ہے۔ 

 

پاکستان کے کرکٹ شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کھلاڑی بھی ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی پر کافی پر جوش نظر آرہے ہیں۔
پاکستان کے سابق کپتان جاوید میانداد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ سے دور تھے جس سے ان کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کا دورہ پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے بہت ضروری تھا۔
پاکستان کے سابق کپتان وسیم باری نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکن ٹیم کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے اور اس سے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے بند دروازے کھلنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ’پاکستان میں شائقین کرکٹ کو لمبے عرصے بعد ٹیسٹ کرکٹ اپنے میدانوں پر دیکھنے کو ملے گی۔ اس سیریز سے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی اپنے ہوم گراونڈ پر کھیلنے کا موقع ملے گا۔‘ 
سابق کپتان نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ ’سری لنکن کرکٹ بورڈ اوران کی حکومت کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔‘

سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر ہوم کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن حسن خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’2009 کے واقعے کے بعد سری لنکن ٹیم کا دورہ پاکستان کافی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سری لنکن بورڈ کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔‘

سری لنکا کا دورہ پاکستان کرکٹ کی بحالی میں کتنا مدد گار ثابت ہوگا؟ 

سابق کپتان وسیم باری پر امید ہیں کہ سری لنکا کے دورے کے بعد دیگر ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پی سی بی کی پوری کوشش ہے کہ کرکٹ گراؤنڈز کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں، ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے ساتھ بھی بات چیت چل رہی ہے اور امید ہے کہ چھ سات ماہ میں دیگر ٹیمیں پاکستان آئیں گی۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سیریز سے نہ صرف پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحال ہونے جا رہی ہے بلکہ ملک کے شمال میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی بھی خوش آئند ہے۔ ’شمال سے پاکستان کرکٹ کو بہت سپورٹ ملتی ہے اور یہ شائقین کرکٹ کے لیے ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنے رول ماڈلز کو کھیلتے ہوئے دیکھیں۔‘
سابق کپتان جاوید میانداد کے مطابق پاکستان میں اب دیگر ٹیموں کو بھی آکر کھیلنا چاہیے۔ ’پاکستان میں سکیورٹی صورتحال اب بہت بہتر ہوچکی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سلسلے میں دیگر بورڈز کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اس ملک کے لوگ کرکٹ سے پیار کرتے ہیں اور اپنے گراؤنڈز میں کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستان میں سکیورٹی صورتحال اب بہت بہتر ہوچکی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان اورسری لنکا پلڑہ کس کا بھاری رہے گا؟

سابق کپتان وسیم باری کہتے ہیں کہ پاکستان کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ ضرور ملے گا۔ دونوں ٹیمیں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ لیکن سری لنکا کی ٹیم آسان حریف نہیں ہے۔ پاکستان کو سخت محنت کرنا ہوگی۔
سابق کپتان جاوید میانداد نے پاکستانی کھلاڑیوں کو مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کو آسان ہدف نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کو دورہ آسٹریلیا کو بھول کر اچھی کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔’میدان میں مثبت سوچ کے ساتھ جب اتریں گے تو نتائج بھی مثبت ہوں گے۔‘

شیئر: