قومی اسمبلی اجلاس، بجھی مسلم لیگ نواز

مسلم لیگ نواز پورے اجلاس میں بجھی بجھی نظر آئی، اور اس کے اراکین سب سے آخر میں اسمبلی ہال میں پہنچے۔ فوٹو:اے ایف پی
فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آئین میں ترمیم کا بل تو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے اور اس پر مزید کارروائی کے لیے اس کو قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن اس حوالے سے بلایا گیا اجلاس اسمبلی کے مختصر ترین اجلاسوں میں سے ایک رہا۔
جمعے کے روز منعقد ہونے والا اجلاس 48 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا اور صرف 12 منٹ میں ختم ہو گیا۔ جس کے دوران تلاوت ہوئی، نعت پڑھی گئی اور قومی ترانہ بجایا گیا۔
صرف چند منٹ کی باضابطہ کارروائی میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اجلاس کا معمول کا ایجنڈا برخاست کرنے کی قرارداد پیش کی جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے کچھ ہی ثانیوں میں تین بل ’پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ‘، ’پاکستان نیوی ترمیمی ایکٹ‘ اور ’پاکستان ایئرفورس ترمیمی ایکٹ‘ پیش کر دیے۔ جس کے بعد سپیکر نے اجلاس ہفتے کے روز 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔ 
اجلاس میں آرمی ایکٹ کی ترمیم کے علاوہ ہونے والی کارروائی محض اتنی تھی کہ مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے گرفتار اراکین اسمبلی کو اجلاس میں لانے کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس مطالبے کے علاوہ مسلم لیگ نواز پورے اجلاس میں بجھی بجھی نظر آئی، اور اس کے اراکین سب سے آخر میں اسمبلی ہال میں پہنچے۔
اجلاس شروع ہونے سے پہلے پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما نفیسہ شاہ مسلم لیگ نواز کی خواتین ارکان طعنہ دیتے سنی گئیں کہ ’آپ کی تو سوشل میڈیا پر بہت بے عزتی ہو رہی ہے۔‘
نفیسہ شاہ واحد رکن اسمبلی تھیں جو ٹھیک وقت پر پورے 11 بجے اسمبلی ہال میں داخل ہو گئیں جبکہ حکمران جماعت کے اراکین 11 بج کر چار منٹ پر اپنی پارلیمانی جماعت کے اجلاس کے خاتمے کے بعد ہال میں آئے۔ حکمران جماعت کے سب سے پہلے آنے والے رکن شہریار آفریدی تھے، جو اس موقع پر کافی سنجیدہ نظر آئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہونے کے باوجود حسب معمول اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے پارلیمانی جماعت کے اجلاس کی صدارت کی اور اپنے اراکین کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے متعلق کامیاب قانون سازی کے لیے ہدایات دیں۔

 بلاول بھٹو ذرداری قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ فوٹو:اے ایف پی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ذرداری بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ نواز کے اراکین کچھ تاخیر سے آہستہ آہستہ اجلاس میں آئے۔ جب تلاوت شروع ہوئی تو پہلی صف میں مسلم لیگ نواز کے صرف ایاز صادق براجمان تھے۔ تاہم کچھ دیر بعد خواجہ آصف اور رانا تنویر حسین آ کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔
پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان اجلاس کے دوران کافی سرگرم رہے اور مختلف اپوزیشن رہنماؤں سے گفت و شنید کرتے رہے۔
جب کہ اسد عمر اجلاس شروع ہوتے ہی مسلم لیگ نواز کے  چوہدری تنویر حسین کے پاس گئے اور مختصر گفتگو کے بعد واپس آ کر تحریک انصاف کے وزرا کے ساتھ  بیٹھ  گئے۔

 

شیئر:

متعلقہ خبریں