Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا سعودی عرب میں آزاد ویزے کا وجود ہے؟

پاکستان میں ایجنٹ سادہ لوح لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ آزاد ویزے پر جاکر کہیں بھی کام کرسکتے ہیں۔ فوٹو: ایس پی اے
کیا سعودی عرب میں کام کرنے کے لیے صرف ورک ویزہ ہی جاری کیا جاتا ہے؟ ایجنٹوں کی جانب سے پیدا کردہ آزاد ویزے کا تصور قطعی طور پرغلط ہے۔
ورک ویزے کے علاوہ سرمایہ کاری کے لیے خصوصی ویزے جاری ہوتے ہیں تاہم اس کا نظام الگ ہے جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دی جاتی ہیں جن کے عوض وہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔
پاکستان میں ایجنٹ سادہ لوح لوگوں سے بھاری رقم لے کرانہیں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ آزاد ویزے پر جا کر کہیں بھی کام کرسکتے ہیں۔ یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے جس کی وجہ سے خود ساختہ بھاری فیس دے کر آزاد ویزہ حاصل کرنے والے یہاں آ کر بے حد پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔

 

سعودی عرب کے ورک ویزے پر آنے کے خواہشمندوں کو چاہیے کہ وہ مستند ریکروٹنگ ایجنسی کے ذریعے ہی معاملا ت طے کریں جو باقاعدہ لائسنس یافتہ ہوں تاکہ بعد میں ضرورت پڑنے پر ان سے رابطہ کیا جا سکے۔

آزاد ویزے کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں خاص کر دیہاتوں میں رہنے والے سادہ لوح افراد کو ایجنٹ یہ کہہ کر ان سے بھاری رقوم اینٹھ لیتے ہیں کہ آزاد ویزے پر سعودی عرب جانے کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہاں کام کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے والے ایک متاثر شخص کا کہنا تھا کہ 5 لاکھ  روپے میں ویزہ خریدا تھا۔ ایجنٹ نے اس بات کا یقین دلایا تھا کہ ویزہ آزاد ہے۔ سعودی عرب پہنچ کر جہاں بہتر کام ملے کر سکتا ہوں۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ جب میں سعودی عرب پہنچا تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کس سے رابطہ کرنا ہے اور کس کے پاس جانا ہوگا۔
ایئر پورٹ سے نکل کر شہرآیا تو مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا کیونکہ نہ رہنے کا بندوبست تھا اور نہ ہی کھانے کا۔
متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ ایک ہم وطن کو دیکھ کراس سے اپنی حالت بیان کی جو مجھے اپنے ڈیرے پر لے گیا جہاں چند دن بعد معلوم ہوا کہ میرا ویزہ تو چرواہے کا ہے جو دوردراز گائوں کا ہے۔ اب مشکل یہ تھی کہ میں نہ واپس جاسکتا تھا اور نہ ہی کچھ کرنے کے قابل تھا کیونکہ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ قانون کے مطابق میں کوئی دوسرا کام بھی نہیں کر سکتا۔

حال میں سعودی عرب میں ’منفرد اقامہ‘ متعارف کرایا گیا ہے. فوٹو: الیوم الاقتصادی

قارئین کرام اس طرح کے متعدد واقعات ہیں جنہیں بیان وقت کا ضیاع ہی ہوگا تاہم یہ ضروری ہے کہ لوگ آزاد ویزے کی اصطلاح کو سمجھیں اور دھوکے باز ایجنٹوں کے چکر میں نہ آئیں تاکہ کسی مشکل صورت حال میں مبتلا ہو کر پریشان نہ ہوں۔
سعودی عرب میں آزاد ویزے کا کوئی تصورنہیں بلکہ ورک ویزے پر بھی اس طرح کی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں کہ ویزے ( اقامہ ) میں درج پیشے سے ہٹ کر دوسرا کام کرتے ہوئے گرفتار ہونے پرقید و جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔
حال میں سعودی عرب میں ’منفرد اقامہ‘  متعارف کرایا گیا ہے جس کی شرائط قطعی طور پرمختلف ہیں جنہیں ’اردونیوز‘ میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔
زیر نظر مضمون میں ’آزاد  ویزے‘ کی فرضی اصطلاح کے بارے میں آگاہ کرنا ہے تاکہ سادہ لوح افراد ایجنٹوں کی فرضی کہانیوں کے جال میں نہ پھنسیں۔  
وزارت محنت کے قانون کے مطابق ورک ویزے پر آنے والوں کے لیے اس امر کی پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سپانسر (کفیل ) کے پاس ہی کام کریں، دوسری جگہ کام کرنے والے غیر قانونی تارکین  تصور کیے جاتے  ہیں۔

غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو روزگار یا قیام وطعام کی سہولت فراہم کرنے والوں کو بھی سزاؤں کا سامنا کرناپڑتا ہے. فوٹو: ایس پی اے

ایسے تارکین جو کفیل کے علاوہ دوسری جگہ کام کرتے ہیں وزارت محنت کی قانونی اصطلاح میں انہیں ’عمالہ سائبہ‘  یعنی ایسے افراد جن کا کوئی پرسان حال نہ ہو کہا جاتا ہے۔ ان افراد کے خلاف قانون کی شق نمبر 30 کا اطلاق کیا جاتا ہے جس پر گرفتاری کی صورت میں قید، 20 سے 50 ہزار ریال جرمانہ اور ملک بدری کی سزا دی جاتی ہے۔
غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو روزگار یا قیام وطعام کی سہولت فراہم کرنے والوں کو بھی سزاؤں کا سامنا کرناپڑتا ہے، اس لیے جو بھی سعودی عرب کام کرنے کی نیت سے آنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ ’آزاد ویزے‘ کی اصطلاح کو دل و دماغ سے قطعی طور پر نکال دیں تاکہ مستقل مشکلات و پریشانیوں میں مبتلا نہ ہوں۔

شیئر: