Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سفر حج: قدیم قافلوں سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سمارٹ سسٹم تک

آج کے دور میں مملکت میں ٹرانسپورٹیشن کا مربوط جال بچھا ہوا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
حج کی تاریخ میں عازمین کو ایک سے دوسری جگہ پہنچانے میں ٹرانسپورٹ کا کردار بنیادی ستون جیس رہا ہے جس کی وجہ سے عازمینِ حج کا حرمینِ شریفین تک آسانی سے پہنچنا ممکن ہوتا رہا۔
اونٹوں پر سوار کارروانوں کی صورت میں صحراؤں کے سفر سے لے کر آج کی تیز رفتار ریل گاڑیوں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال اس بات کی طاقتور گواہی ہے کہ مملکت، عازمین کے سفرکو آسان بنانے کا پختہ عزم کیے ہوئے ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق صدیوں سے زائرین، ٹرانسپورٹیشن کے روایتی ذرائع پر انحصار کرتے رہے ہیں جن میں اونٹ اور گھوڑے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ان کے ذریعے عازمینِ مشاعرِ مقدسہ، کاروانوں کی شکل میں اسلامی دنیا کے ایک مقام سے نکلتے اور سرزمینِ حجاز کا رُخ کرتے۔
مگر یہ سفر پیچیدہ اور خطرات سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ ہزاروں افراد پر مشتمل عازمین کے قافلے نامزد مقامات پر پڑاؤ کرتے تاکہ مشکیزوں میں مزید پانی اور تھیلوں میں کھانے کی اضافی اشیا رکھ لیں۔

ان عازمین کے سفر کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہوتا جس میں موسمی حالات کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں ہوتا تھا۔
اُس زمانے میں حج جیسے فریضے کی ادائیگی ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش تجربے سے کم نہیں ہوتی تھی۔ سفر کے دوران عازمین کو مہینوں تک جسمانی مشقت کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔
تاہم بھاپ سے چلنے والے بحری جہازوں نے اس تہذیبی داستان میں پہلی بار ایک بڑی تبدیلی متعارف کرائی۔

اس تبدیلی سے عازمینِ حج، جہازوں میں بیٹھ کر بحیرۂ احمر سے جدہ کی اسلامی بندرگاہ تک پہنچنے لگے اور یوں کئی دہائیوں تک اس بندرگاہ نے بنیادی بحری دروازے کے طور پر خدمات کی انجام دہی کی۔
تاہم سب سے انقلابی تبدیلی اس وقت آئی جب شہری ہوا بازی کا آغاز ہوا۔ اِس سے وہ سفر جس میں عازمینِ حج کو مہینوں لگ جاتے تھے، گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔
آج سعودی عرب کے ہوائی اڈے، خصوصاً جدہ کا شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ایئرپورٹ، جدید نظام کے تحت کام کر رہا ہے جہاں عازمینِ حج کے لیے بیٹھنے کی جگہیں تک مختص ہیں۔

عازمین کے لیے جدہ کے ہوائی اڈے پر اترنے سے لے کر مشاعرِ مقدسہ تک منتقلی کے عمل کے لیے ڈیجیٹل طریقے استعمال میں لائے جا رہے ہیں جن سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ تمام کام بغیر کسی دقت کے فوراً مکمل ہو جائیں۔
آج کے دور میں مملکت میں ٹرانسپورٹیشن کا ایک مربوط جال بچھا ہوا ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی شاندار کارکردگی کے ساتھ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کا بندوبست کر سکتا ہے۔
المشاعر المقدسہ میٹرو لائن‘ ایک سمارٹ نظام کے طور پر کام کرتے ہوئے منی کی وادی سے عازمین کو عرفات کے پہاڑ کی جانب لے جاتی ہے اور پھر انھیں مزدلفہ تک پہنچاتی ہے۔ 

اس سے نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ میں خلل نہیں پڑتا بلکہ حج کے اراکان کی ادائیگی کے عروج پر بھی عازمینِ حج کی حفاظت کا انتظام بہتر رہتا ہے۔
اس نیٹ ورک کو ’حرمین ہائی سپیڈ ریلوے‘ کی بھرپور معاونت حاصل ہے جو ماحول کے لحاظ سے انسان دوست خدمات کے سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت ہے اور جدہ اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے راستے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مابین رابطے کا کام دیتی ہے۔
اس نیٹ ورک کی مدد کے لیے سمارٹ شٹل بسوں کا ایک وسیع بیڑہ بھی فراہم کیا گیا ہے جس میں خودکار ٹریکنگ اور ٹریفک کے انتظام کا نظام نصب ہے تاکہ ہجوم کی نقل و حرکت منظم اور آمد و رفت کے منصوبے کے عین مطابق رہے۔

سعودی وژن 2030 ‘ کے سٹریٹیجک اہداف کے تحت، ٹرانسپورٹیشن ایک جدید ڈیجیٹل زمانے میں داخل ہو چکی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کی مدد اور بہت سے ڈیٹا کے تجزیے سے ہجوم کے بندوبست کو حقیقی وقت میں ممکن بنا لیا جاتا ہے۔
سمارٹ ایپلیکیشنز کی مدد سے عازمینِ حج سفر کا دورانیہ، بسوں کے روٹ اور رش کی صورتِ حال کی فوراً دیکھ سکتے ہیں جس سے نہ صرف کارکردگی بڑھتی ہے بلکہ مشاعرِ مقدسہ پر موجود لوگوں کی نقل و حرکت کا بہتر انتظام کیا جا سکتا ہے۔

یہ مسلسل ترقی ظاہر کرتی ہے کہ مملکت نے حج اور عازمین کی خدمت کے انفراسٹکچر اور عملی کارکردگی کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔
حج کا وہ سفر جو جو کبھی سست رفتار کاروانوں کے ذریعے ہوا کرتا تھا، آج ٹیکنالوجی کی تبدیلی کے ذریعے ایک مسلسل کہانی کی شکل اختیار کر چکا ہے جو یہ یقینی بناتا ہے دنیا کے ہر کونے سے آنے والے زائرین کا یہ سفر روحانی، محفوظ اور آرادم دہ رہے۔

 

شیئر: