قاہرہ کے نیشنل میوزیم آف سِویلائیزیشن میں سفر حج کی یادیں
نوادرات، مکہ اور مشاعرِ مقدسہ کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
قاہرہ میں واقع نیشل میوزیم آف سِویلائیزیشن (این ایم او سِی) یا مصری تہذیب کے قومی میوزیم میں زائرین کے لیے مشہور اور نایاب نوادرات کا ایسا مجموعہ موجود ہے جس میں سفرِ حج اور بیت اللہ کے غلاف یا کسوہ کے بارے میں تفصیلات کا دستاویزی اندراج ہے۔
اس میوزیم میں رکھے گئے نوادارات ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب اور مصر کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات پائے جاتے ہیں۔
میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید ابوالفضل نے سعودی پریس ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میوزیم میں رکھے گئے نوادرات، مکہ اور مشاعرِ مقدسہ کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں اور نسل در نسل اسلامی میراث کے بارے میں آگاہی کو فروغ دے رہے ہیں۔‘
آنے والے مہمانوں کے لیے میوزیم میں ایسی تصویریں بھی رکھی گئی ہیں جنھیں کئی زاویوں سے کھینچا گیا تھا اور وہ ایک ایک منظر کو مختلف اطراف سے دکھاتی ہیں۔
اِن کا مقصد مصر کے حج مشن اور سنہ 1904 سے 1908 کے درمیان کے حصے میں مکہ میں حج کے ارکان کی ادائیگی کو دستاویزی شکل دینی تھی۔
میوزیم میں اِس کے علاوہ رکھی گئی نایاب اشیا میں کعبہ کے کسوہ (غلاف) کے وہ حصے بھی ہیں جو 46 سال پہلے کے ہیں۔
انھیں دیکھ کر اسلامی ہنر اور دستکاری کی نفاست کا ادراک ہوتا ہے اور حج کی میراث کو محفوظ رکھنے کے لیے جو وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں، میوزیم میں آنے والے لوگ اُن سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
سید ابوالفضل نے بتایا کہ’ میوزیم میں موجود نایاب نوادرات کے مجموعے کے ذریعے حج کا دستاویزی اندارج، میوزیم کے اُس مشن کا عکاس ہے کہ حج کے سفر سے متعلق اسلامی میراث کو دنیا کے سامنے لایا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اِس سے، میوزیم میں آنے والوں کو ایک ایسے متوازن تجربے کے ذریعے حقیقتوں کا علم ہوگا جو روحانی گہرائی اور جدید تنظیم کو اِس انداز سے ایک جگہ جمع کر دیتا ہے جو مکہ اور مشاعرِ مقدسہ کے شایانِ شان بھی ہے اور عالمِ اسلام کا مرکز بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی روحانی منزل بھی ہے۔‘
