کم عمر بچیوں کی شادی پر پابندی

ماہرین کے مطابق کم عمر کی شادیوں میں لڑکیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں، فوٹو: روئٹرز
آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت نے 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ محکمہ قانون پنجاب نے اس حوالے سے قانونی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔
ترجمان محکمہ قانون کے مطابق، ’وفاقی حکومت کی طرف سے ہدایات کی بنیاد پر 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی کے حوالے سے قانون سازی کے لیے تمام صوبوں کو کہا گیا۔‘
’پنجاب کو بھی یہ ہدایات ملیں جس کے بعد محکمے نے قانونی مسودہ منظور کر لیا ہے جس میں 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی جرم تصور ہو گی اور اس پر سزائیں بھی متعین کی جا رہی ہیں۔ نہ صرف وہ شخص جو 18 سال سے کم عمر بچی سے شادی کا مرتکب ہو گا بلکہ اس شادی کو قابل عمل بنانے والے بھی اسی زمرے میں آئیں گے چاہے وہ والدین ہی کیوں نہ ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’وزارت قانون نے چائلڈ میریج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 میں ترامیم کا مسودہ منظور کر لیا ہے جس کو جلد ہی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اس سے پہلے قانون کے مطابق 16 سال کی لڑکی کی شادی قانوناً جائز تھی جسے اب بڑھا کر عمر کی حد 18 سال کی جا رہی ہے۔‘
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نے بتایا کہ ’اس سے پہلے پنجاب کی حکومت نے 2015 میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 1971 میں کچھ ترامیم پاس کی تھیں اور اس کا نام چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2015 رکھا گیا تھا۔ اس میں بنیادی قانون کو نہیں چھیڑا گیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو شادی کی عمر کی حد کو 16 سال ہی رہنے دیا گیا تھا جبکہ اس میں صرف سزاؤں کی حد تک ہی اضافہ کیا گیا تھا۔‘
پاکستان میں ابھی تک سندھ ایسا صوبہ ہے جس نے 2014 میں قانون سازی کے ذریعے 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ سندھ میں کم عمر لڑکی سے شادی کرنے کی سزا تین سال قید ہے۔ اسی طرح شادی کے عمل کو سہولت فراہم کرنے والے چاہے وہ والدین ہی کیوں نہ ہوں ان کی سزا دو سال قید مقرر کی گئی ہے۔

پہلے پنجاب میں لڑکیوں کے لیے شادی کی عمر کی حد 16 سال مقرر تھی، فائل فوٹو: روئٹرز

تولیدی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی وکالتی گروپ سی سی آر کی گذشتہ سال ستمبر میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’پاکستان دنیا کا چھٹا ایسا ملک ہے جہاں کم عمر بچیوں کی شادیوں کا رواج ہے۔‘ رپورٹ کے مطابق ’ملک کی 21 فیصد بچیوں کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہی کر دی جاتی ہیں۔‘
رپورٹ کے مندرجات کے مطابق ’کم عمر بچوں کی شادیوں میں خواتین ایسے بھی زیادہ متاثر ہوتی ہیں کہ ایک تو کم عمری میں ہی وہ تولیدی صحت کے مسائل سے دو چار ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ معاشرتی اعتبار سے گھریلو تشدد کا شکار بھی ہوتی ہیں۔‘
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق ’ملک میں زبردستی کی شادیوں کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے سفارشات بھی مرتب کی گئی ہیں کہ حکومت کو اس حوالے سے سنجیدہ قانون سازی کہ ضرورت ہے۔
پنجاب کی صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد حتمی بحث اور منظوری کے لیے بل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ قانون کی منظوری کے بعد یہ پہلی بار ہو گا کہ پاکستان بننے کے بعد آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں 18 سال کم عمر بچیوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

شیئر: