برفباری اور ٹھنڈ کے باعث 74 ہلاک  

بلوچستان حکومت نے برفباری اور بارشوں کے باعث ایمرجنسی کا اعلان کر رکھا تھا۔ فوٹو اردو نیوز
پاکستان میں گذشتہ تین روز میں ہونے والی برفباری اور بارش کے باعث کم از کم 74 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہوا ہے۔ جہاں مجموعی طور پر 59 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق نیلم ویلی میں 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
نیلم ویلی میں برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 10 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق برف میں پھنسے ہوئے افراد کو بذریعہ ہیلی کاپٹر نکالنے کے لیے انتطامات کیے جا رہے ہیں جبکہ متاثرین کے لیے راشن اور ٹینٹ مظفر آباد سے روانہ کر دیے گے ہیں۔
’چار زخمی افراد کو برفانی تودے سے نکالا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔‘
حالیہ بارشوں اور برفباری کے باعث پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو چکی ہے جبکہ 11 افراد زخمی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں تین افراد زخمی جبکہ پانچ گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی تین افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان حکومت نے ضلع کوئٹہ، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ اور ہرنائی میں برفباری اور بارشوں کے باعث ایمرجنسی کا اعلان کر رکھا تھا۔

وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فوٹو اردو نیوز

این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں ضلع زیارت میں ڈھائی فٹ اور ضلع قلات میں ایک فٹ تک برف باری ریکارڈ کی گئی۔

برف باری کے باعث رابطہ سڑکیں بند

این ڈی ایم اے نے بتایا کہ گذشتہ تین دنوں سے ہونے والی برفباری کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں لوئر چترال، اپر دیر اور ضلع مانسہرہ میں ناران جانے والی رابطہ سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے۔
شمالی وزیرستان میں میران شاہ رزمک روڈ ٹریفک کے لیے بند ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نیلم ویلی سے شاردہ، ضلع باغ میں چکار روڈ اور لسدانا روڈ ٹریفک کے لیے بند ہے۔
گلگلت بلتستان میں استور میں داشکن، دویاں، ہارچو کے مقام پر جبکہ شاہراہ قرارم پر تتا پانی، پاسو، ہنزہ کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک جزوی طور پر معطل ہے۔
ضلع غذر سے چترال جانے والی سڑک بھی برفباری کے باعث جزوی طور پر بند ہے۔

بلو چستان کی صورتحال 

بلوچستان کے شمالی اور بالائی اضلاع میں شدید برفباری کے بعد سخت سردی کی لہر نے معمولات زندگی مفلوج کردیے ۔ قلعہ سیف اللہ اور زیارت میں درجہ حرارت منفی 14سینٹی گریڈ تک گرنے کے باعث شاہراہوں پر پڑنے والی برفباری جم گئیں اور سینکڑوں مسافر پھنس گئے جنہیں 24 گھنٹے بعد انتظامیہ نے ریسکیو کرلیا۔
کوئٹہ میں اردو نیوز کے نامہ نگار زین الدین احمد کے مطابق بلوچستان کو پنجاب سے ملانے والی شاہراہ ہر قسم جبکہ کراچی، افغانستان اورایران سے ملانے والی شاہراہیں بھاری ٹریفک کیلئے تاحال بند ہیں۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 30 سالہ ریکارڈ توڑنے والی برفباری کے نتیجے میں ہونے والے حادثات سے ہلاکتوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ہلاکتیں ژوب، قلعہ عبداللہ،پشین، کوئٹہ اور مستونگ کے اضلاع میں رپورٹ ہوئیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، مستونگ ، قلات، بولان ، پشین ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ ، ہرنائی اور زیارت کے اضلاع میں بارہ جنوری سے شروع ہونےو الا برفباری کا سلسلہ تھم گیا ۔اس دوران ان علاقوں میں ایک فٹ سے دو فٹ تک برف پڑی۔ بعض پہاڑی علاقوں میں دو سے تین فٹ تک برفباری ہوئی۔ برفباری کا سلسلہ تھمنے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شدید سرد ہوائیں چلنے کی وجہ سے معاملات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

کان مہترزئی کے مقام پر پانچ سو سے زائد مسافر شاہراہ پر برف جمنے کی وجہ سے پھنس گئے تھے (فوٹو اے ایف پی)

محکمہ موسمیات کے مطابق زیارت ، قلعہ سیف اللہ اور اس کے بالائی علاقوں کان مہترزئی، مسلم باغ اور پشین کے علاقے خانوزئی میں منفی 14، قلات میں منفی13اور کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی11سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔
کوئٹہ ، قلات، مستونگ، پشین ، زیارت ، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں سخت سردی نے لوگوں کو گھروں تک محصور کردیا ہے۔ نالوں میں بہنے والا اور چھتوں سے ٹپکنے والا پانی سردی کی وجہ سے جم گیا ۔ پائپ لائنیں جمنے کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں مشکل پیش آرہی ہے۔ کلی کوچوں میں برف جمنے کی وجہ سے پیدل چلنے کے دوران کئی افراد پھسلن گئے۔ پھسلن کی وجہ سے گاڑیوں کے ٹکرانے کے کئی واقعات بھی پیش آئے۔ مستونگ کے ڈپٹی کمشنر بھی لکپاس کے قریب اس طرح کے ایک حادثے میں زخمی ہوئے۔ اس حادثے میں ایک شخص کی موت بھی ہوئی۔
چھوٹی سڑکوں کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی شاہراہوں پر بھی برف جمنے کی وجہ سے آمدروفت متاثر ہورہی ہے۔ برفباری سے کوئٹہ سے تقریباً ایک سو دس کلومیٹر دور قلعہ سیف اللہ کا علاقہ کان مہترزئی سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ سطح سمندر سے7ہزار فٹ بلندی پر واقع اس علاقے سے کوئٹہ کو پنجاب اور خیبر پشتونخوا سے ملانے والی شاہراہ گزرتی ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل پانیزئی کے مطابق کان مہترزئی کے مقام پر پانچ سو سے زائد مسافر شاہراہ پر برف جمنے کی وجہ سے پھنس گئے تھے ۔ دو سو سے زائد چھوٹی گاڑیوں اور 15 سے مال بردار ٹرک اور کنٹینر بھی پھنس گئے تھے ۔ متارہ افراد کو نکالنے کیلئے پیر کی شام کو ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جس میں پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے علاوہ پانچ سو سے زائد لیویزاور ایف سی اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ان اہلکاروں نے پوری رات سخت سردی میں تیز ہواﺅں کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں اور صبح نو بجے آپریشن مکمل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پانچ سو سے زائد افراد کو ریسکیو کرنے کے باوجود پی ڈی ایم اے ، ضلعی انتظامیہ ، لیویز اور ایف سی کی گاڑیوں میں کوئٹہ، خانوزئی اور مسلم باغ تک پہنچایا گیا۔ انہیں گرم کپڑے ، کمبل اور خوراک فراہم کی۔ امدادی سرگرمیوں میں کان مہترزئی کے مقامی رہائشیوں نے بھی حصہ لیا اور خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کو اپنے گھروں میں پناہ دی۔
قلعہ سیف اللہ سے کوئٹہ جانے والے ایک عینی شاہد عبدالقدوس نے ٹیلیفون پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم لوگ قلعہ سیف اللہ سے روانہ ہوئے تو مسلم باغ کے بعد شدید برفباری کے باعث گاڑیاں پھنستی رہیں۔ کان مہترزئی تک دو سے زائد گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔‘
’شیر خوار بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں افراد منفی 14ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید ترین سردی میں پیر کی دوپہر بارہ بجے سے منگل کی علی الصبح تک گاڑیوں میں پھنسے رہے۔ہمارے پاس کھانے پینے کا سامان اور گاڑیوں میں ایندھن ختم ہوگیا ۔ گاڑیوں کے ہیٹر بند ہونے کے بعد تولوگوں کو موت سامنے نظر آنے لگی۔ لوگوں نے پوری رات امداد کے انتظار میں گزاری ۔ ‘

بلوچستان میں دور دراز کے علاقوں کی رابطہ سڑکوں اب تک بند ہیں (فوٹو اے ایف پی)

ڈپٹی کمشنر پشین قائم لاشاری کے مطابق کان مہترزئی میں 15 سے 20 کلومیٹر تک کا راستہ گاڑیوں کی لائن لگنے کی وجہ سے بند تھا جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں نے یہ تمام راستہ رات کے اندھیرے میں سخت سردی میں پیدل طے کیا اور مسافروں تک پہنچے اورانہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ کان مہترزئی میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے پانچ سو سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ ریسکیو آپریشن کے بعد ریلیف آپریشن شروع کردیا گیا ہے جس میں ہیلی کاپٹر کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں 21 ہزار افراد کو خوراک اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا ۔
ترجمان کے مطابق حالیہ برفباری نے تیس سالہ ریکارڈ توڑا ہے۔ ایک ہزار کلومیٹر سے زائد علاقہ میں برفباری ہوئی ہے ۔صوبائی حکومت نے برفباری سے تین دن قبل ہی عام شہریوں اور انتظامیہ کو الرٹ کردیا تھا اور پیشگی اقدامات کئے ۔ صوبے کے گیارہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرکے ہنگامی اقدامات کیے گئے جس کی وجہ سے نقصانات کم ہوئے۔
لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ رن وے کی صفائی کے بعد کوئٹہ ایئر پورٹ کو پروازوں کیلئے بحال کردیا گیا ہے۔ قومی شاہراہوں کو کھولنے کا کام بھی جاری ہے بیشتر شاہراہیں ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی ہیں تاہم دور دراز کے علاقوں کی رابطہ سڑکوں اب تک بند ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل پانیزئی کے مطابق کان مہترزئی میں سردی کی وجہ سے مرکزی شاہراہ پر برف جمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مسلم باغ اورخانوزئی کے مقامات پر لوگوں کو آگے جانے سے روکا جارہا ہے ۔ کیونکہ درجنوں خالی گاڑیاں اب بھی پھنسی ہوئی ہیں۔
لیویز کنٹرول کوئٹہ کے انچارج سید امین کے مطابق کوئٹہ سے تیس کلومیٹر دور لکپاس کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ اور چمن کے قریب کوژک کے مقام پر پاک افغان شاہراہ کو چھوڑی گاڑیوں کیلئے بحال کردیا گیاہے ۔ تاہم دونوں شاہراہیں بھاری ٹریفک کیلئے بند رکھی گئی ہیں۔
کوئٹہ کو سندھ سے ملانے والی شاہراہ بھی کولپور اور مختلف مقامات پر بھاری ٹریفک کیلئے بند رکھی گئی ہے۔ کوئٹہ کو ایران سے ملانے والی آرسی ڈی شاہراہ نوشکی کے قریب شیخ واصل کے مقام پر بند ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ لیویز حکام کے مطابق نوشکی سے لیکر تفتان تک پاک ایران ریلوے پٹڑی بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئی ہے۔ پٹڑی کا نچلہ حصہ متاثر ہونے کی وجہ سے کوئٹہ سے ایران جانے والی ٹرین کو دو دنوں سے دالبندین کے مقام پر روکا گیا ہے۔

شیئر: