امریکہ کو ویت نام سے جان چھڑانے کے لیے کیا کرنا پڑا؟

اس جنگ میں شمالی ویتنام کے تقریباً 12 لاکھ فوجی ہلاک ہوئے (فوٹو: اردو نیوز)
مشرق وسطٰی میں ایک نئی جنگ کے دہانے کھڑے امریکہ کے لیے جارحیت اور مہم جوئی تقریبا ہر دور میں مرغوب مشغلہ رہی ہے۔
کچھ ہی عرصہ پہلے  مرحوم امریکی سفارتکار رچرڈ ہالبروک نے کہا تھا  کہ ’امریکہ جنگیں جیتنے کے لیے نہیں لڑتا، کچھ مقاصد ہوتے ہیں جو حاصل کرنا ہوتے ہیں۔‘
 یعنی جنگ میں ہار یا جیت امریکہ کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔
پچھلے دنوں امریکہ کی جانب سے عراق میں ایران کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر کو مارے جانے کے بعد ایک نئی بین الااقوامی جنگ کا جو خطرہ پیدا ہوا تھا وہ ابھی تک ٹلا نہیں ہے اور دنیا بھر میں ابھی اس بارے میں تشویش قائم ہے۔ لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ اس صورتحال کا امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔
امریکی حکام کا یہی طرز عمل ان کی لڑی گئی کم و بیش تمام جنگوں میں رہا ہے۔
امریکہ پہلی عالمی جنگ میں شریک نہیں ہوا تاہم اس کے آخری دور میں اس نے برطانیہ کو مدد فراہم کی تھی۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم پھینک کر فاتح بننے والے امریکہ  پر برتری کا زعم آج تک طاری ہے۔
لیکن تاریخ میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ تمام تر فوجی طاقت اور حریفوں کو تباہ و برباد کر دینے کے باوجود امریکہ کو جنگوں اور فوجی کارروائیوں میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
1973 میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی جب امریکہ نے آج کے دن ویت نام معاہدے پر دستخط کیے۔ 

ویت نام

موجودہ ویت نام 1973 تک دو حصوں میں تقسیم تھا، شمالی اور جنوبی ویتنام، جو آپس میں دست و گریبان تھے۔ شمالی ویت نام کو سوویت یونین، چین اور دیگر کمیونسٹ اتحادیوں کو حمایت حاصل تھی جبکہ جنوبی ویتنام کے حامی امریکہ، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور دیگر کمیونسٹ مخالف ممالک تھے۔ اس وقت ویت کانگ کے نام سے ایک مسلح گروپ متحرک تھا جو کمیونسٹ مخالف قوتوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کرتا تھا۔ پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جو امریکہ کو براہ راست جنگ میں لے آیا۔

ویتنامی فوجیوں نے امریکی فوج پر پے در پے حملے کیے (فوٹو: گیٹی امیجز)

ٹنکن واقعہ

دو اگست 1964 کو سمندری گشت کے دوران امریکی بحریہ کی طرف ویت نامی جنگی کشتیاں بڑھیں جس پر امریکی فوجیوں نے انتباہ کے لیے کچھ فائر کیے اور دوسری جانب سے ویتنامی کشتیوں سے جہازوں پر بمباری شروع ہو گئی۔ جس کا امریکی نیوی نے بھی جواب دیا اس سے کچھ فوجی زخمی ہوئے۔
چار اگست کو امریکی نیوی کی جانب سے شکایت کی گئی کہ ویتنامی جنگی کشتیوں نے ایک بار پھر جہازوں کا پیچھا کیا ہے۔ یہ شکایت جب وائٹ ہاؤس پہنچی تو ان دنوں لنڈن بی جانسن صدر تھے۔
سات اگست 1964 کو کانگریس کی طرف سے مشترکہ قرارداد پیش اور مںظور کی گئی، اسے دس اگست کو نافذ کر دیا گیا جس سے صدر جونسن کو جنگ اختیار مل گیا۔

جب امریکی فوجیں ویتنام پہنچیں

قرارداد منظوری کے چند روز بعد ہی امریکی فوجی ویتنام کی سرزمین پر اترے جن کی تعداد شروع میں تو ہزاروں میں تھی تاہم چند روز بعد ساڑھے پانچ لاکھ تک پہنچی۔ امریکہ کا اصل نشانہ شمالی ویتنام تھا کیونکہ جنوبی ویتنام تو اس کا اتحادی تھا۔

جنگ کے لیے لگ بھگ ساڑھے پانچ لاکھ فوجی ویتنام پہنچے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی فوجیوں کی جانب سے بہت تندوتیز جنگ کا آغاز کیا گیا اور شروع کے چند روز میں ہی ایسا لگنے لگا کہ امریکہ اپنا مقصد جلد حاصل کر لے گا لیکن شمالی ویتنام میں اب بھی دو ایسی شخصیات تھیں جو پوری گیم کو پلٹ سکتی تھیں۔

جنرل جیاپ اور ہوچی منہ

یہ وہ شخصات تھیں جنہوں نے فرانسیسیوں کو ایک لمبی جنگ (1946 تا 1955) میں ناکوں چنے چبوائے تھے اور انہیں نامراد نکلنا پڑا تھا۔ یہ دونوں ایک بار پھر میدان میں اترے۔ سیاست اور حرب کا یہ ملاپ امریکی عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا۔ وہ گوریلا جنگ میں بہت مہارت رکھتے تھے انہی کی منصوبہ بندی سے امریکی افواج پر پے در پے حملے کیے جانے لگے۔
جب امریکہ کی ہمت ٹوٹتی دکھائی دے رہی تھی اس وقت جنرل جیاپ کے یہ الفاظ بہت مشہور ہوئے ’تم ہمارے دس آدمی مارو، ہم ایک ماریں گے، دیکھتے ہیں کب تک لڑتے ہو، تم تھک چکے ہو‘ جنرل جیاپ کو ’ریڈ نیپولین‘ بھی کہا جاتا تھا۔

فیصلہ کُن حملہ

شمالی ویتنام اور ویت کانگ نے ایک بھرپور حملے کی تیار کر لی تھی، دارالحکومت سائیگون ان کا نشانہ تھا۔ یکم جنوری 1968 کے روز پورے ملک میں چھٹی تھی،چھتیس صوبائی دارالحکومتوں اور چھ بڑے شہروں پر ایک ہی وقت میں اچانک حملہ کیا گیا اور دارالحکومت پر قبضہ کر لیا گیا۔ جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اگرچہ امریکی فوج اور جنوبی ویتنامی فوج نے مل کر جوابی کارروائی کرتے ہوئے قبضہ واپس چھڑا لیا تاہم اس سے وائٹ ہاؤس کے وہ دعوے غلط ثابت ہوئے کہ کامیابی زیادہ دور نہیں ہے۔

1973 میں امن معاہدے پر دستخط ہوئے (فوٹو: پیپلز ورلڈ)

امریکہ کے اندر سے مخالفت

60 کی دہائی کے اواخر میں امریکی فوجیوں کے رشتہ داروں کی جانب سے سوال اٹھایا جانے لگا کہ اس جنگ کا حاصل کیا ہے؟ اس وقت صدر لنڈن بی جانسن کا دوسرا دور حکومت چل رہا تھا جنہوں نے عوامی حلقوں اور اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر 1969 میں استعفیٰ دے دیا۔ ان کے بعد رچرڈ نکسن نے صدار ت سنبھالی جو جنگ کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے۔ اگرچہ جنگ ان کے دور میں بھی چلتی رہی تاہم وہ اسے سمیٹنا چاہتے تھے۔
 1969 میں ہوچی منہ انتقال کر گئے لیکن ان کے جانشین لڑتے رہے۔ اس جنگ میں شمالی ویتنام کے تقریباً 12 لاکھ جبکہ امریکہ و اتحادیوں کے ساڑھے تین لاکھ فوجی ہلاک ہوئے۔

مذاکرات کا آغاز

اب وقت آ چکا تھا کہ امریکہ جنگ سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔

جنرل جیاپ کو ’ریڈ نیپولین‘ بھی کہا جاتا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

لہٰذا 1969 میں بات چیت کا آغاز ہوا اور فریقین پیرس میں ساتھ بیٹھے۔ یہ سلسلہ وقت کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تاہم اس دوران بھی امن نہ ہو سکا اور جنگ چلتی رہی۔ رچرڈ نکسن کی کوششیں جاری رہیں اور 1973 میں بات معاہدے تک پہنچی۔

پیرس امن معاہدہ

47 برس قبل آج ہی کے روز پیرس میں ہونے والے معاہدے کو’پیرس پیس اکارڈز‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں امریکہ، ویت کانگ، شمالی اور جنوبی ویت نام نے شرکت کی۔ ویسے تو اس معاہدے میں دس بارہ نکات شامل تھے تاہم مرکزی نکتہ یہ تھا کہ امریکہ فوجیں نکالے گا اور دونوں ویت نام مل کر ایک آزاد جمہوریہ کے طور پر آگے بڑھیں گے۔ امریکہ نے کچھ عرصے میں تمام علاقے خالی کیے اور ویتنام نے اس کے مغوی قیدی رہا کر دئیے۔
اب ویتنام کا دارالحکومت سائیگون ہوچی منہ سے منسوب ہے۔

شیئر: