Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بوسنیا: ’سعودی عرب نسل کشی کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ کھڑا ہے‘

سربرینیکا میں نسل کشی کے واقعے میں 8 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ فوٹو اے ایف پی
سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے کہا ہے کہ بوسنیا ہرزیگوینا میں نسل کشی کے سانحے کا شکار ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
 بوسنیا ہرزیگوینا کے قصبے سربرینیکا میں ہونے والی نسل کشی کی پچیسویں برسی کے موقع پر بین الاقوامی یادگاری کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں سعودی عرب نے بھی شرکت کی ہے۔ 
سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کیا اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے پیغامات کانفرنس کے شرکا کو پہنچائے۔
انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان نے بوسنیا ہرزیگووینا کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات کے بھی خواہاں ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے بھائیوں اور سانحے کا شکار ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
’سعودی عرب، اس کی قیادت، حکومت اور عوام کی جانب سے ہماری شرکت انسان دوستی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس کا مظاہرہ سعودی قیادت ہر سال کرتی ہے۔‘
بوسنیا میں نسل کشی کا یہ سانحہ جولائی 1995 میں پیش آیا تھا جس میں آٹھ ہزار سے زائد مقامی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔
کانفرنس میں بوسنیا ہرزگوونیا کے چیئرمین کونسل آف منسٹرز سیفک زیفرووچ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتونیو گیوتریس اور دیگر ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔

شیئر: