پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں اور جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
جمعرات 1 جنوری 2026 18:39
ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ یکم جنوری کو پاکستان اور انڈیا اپنے اپنے جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور انڈیا نے جمعرات کو ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں اور جوہری تنصبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔
اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔
’اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان نے آج اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کو پاکستان میں موجود 257 انڈین قیدیوں (58 شہری اور 199 ماہی گیر) کی فہرست فراہم کی ہے۔‘
ترجمان کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور انڈیا کے درمیان 21 مئی 2008 کو طے پانے والے قونصلر رسائی کے معاہدے کی دفعات کے تحت کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستیں سال میں دو مرتبہ، بالترتیب یکم جنوری اور یکم جولائی کو، باہم تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’میری معلومات کے مطابق انڈین حکومت بھی نئی دہلی میں واقع پاکستان ہائی کمیشن کے ساتھ پاکستانی قیدیوں کی فہرست شیئر کر رہی ہے۔‘
ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ یکم جنوری کو پاکستان اور انڈیا اپنے اپنے جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کرتے ہیں، جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملوں کی ممانعت سے متعلق معاہدے کے تحت کیا جاتا ہے۔
’یہ معاہدہ 31 دسمبر 1988 کو طے پایا تھا، جس کے تحت، دیگر امور کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک اس کی تعریف کے دائرہ کار میں آنے والی اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی معلومات ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔‘
ترجمان نے بتایا کہ ’اس معاہدے کے مطابق، پاکستان میں موجود جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست آج وزارتِ خارجہ میں باضابطہ طور پر انڈین ہائی کمیشن کے ایک نمائندے کے حوالے کی گئی۔‘
’میری معلومات کے مطابق انڈین حکومت بھی آج نئی دہلی میں واقع پاکستان ہائی کمیشن کو بھارتی جوہری تنصیبات کی فہرست فراہم کر رہی ہے۔‘
