Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فضل محمود کی نیلی آنکھوں کے سامنے کوئی نہ ٹھہرتا تھا‘

1954 میں انگلینڈ کو اوول ٹیسٹ میں ہرانے والی پاکستانی ٹیم کے چھ کھلاڑی اسلامیہ کالج سے تھے (فوٹو: ای ایس پی این)
سنہ 1947 میں تقسیم کے بعد انڈیا کے شہر پونا میں ٹریننگ کیمپ ختم ہونے پر فضل محمود ٹرین پر بمبئی کے لیے روانہ ہوئے جہاں سے انہیں کراچی پہنچنا تھا۔
راستے میں دو انتہا پسندوں نے ان پر مسلمان ہونے کی وجہ سے حملہ کرنا چاہا تو ممتاز انڈین کرکٹر سی کے نائیڈو ان کی ڈھال بن گئے، انہوں نے اپنا بلا نکالا اور فسادیوں کو متنبہ کیا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں بصورتِ دیگر ان کی خیر نہیں۔ سی کے نائیڈو نے اس روز انسانی جان ہی نہیں بچائی پاکستان کرکٹ کا مستقبل بچایا۔
اس وقت فضل محمود دورہ آسٹریلیا کے لیے انڈین ٹیم میں منتخب ہوگئے تھے۔ انہیں اکتوبر میں ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا روانہ ہونا تھا۔ فضل محمود پاکستان آئے تو یہاں مہاجرین کی حالتِ زار اور فسادات کی خبروں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ اس صورتِ حال میں انہوں نے انڈین ٹیم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

 

کپتان لالہ امر ناتھ کو ٹیلی گرام کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انڈین پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ سے کہا کہ وہ فضل محمود کو آسٹریلیا جانے پر راضی کریں۔ ممدوٹ نے ان سے بات کی لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
فضل محمود نے آپ بیتی ’فرام ڈسک ٹو ڈان‘ میں لکھا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے ان کی جوانی کے پانچ برس ضائع ہوئے۔ وطن کی الفت میں کیے گئے اس فیصلے پر انہیں کبھی پچھتاوا نہیں ہوا بس یہ حسرت رہی کہ کاش وہ بریڈ مین کے خلاف اپنا ہنر آزماتے۔
بولر کی حیثیت سے فضل محمود تقسیم سے پہلے خود کو منوا چکے تھے۔ دورہ آسٹریلیا سے قبل انگلینڈ کے دورے میں کپتان افتخار علی خان پٹودی ان کی ٹیم میں شمولیت کے حق میں تھے لیکن سلیکٹرز نے انہیں عمر میں بہت چھوٹا قرار دے کر منتخب نہیں کیا۔
دسمبر1946 میں فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم دہلی میں انہوں نے ریسٹ آف انڈیا کی طرف سے کھیلتے ہوئے انڈین ٹیم کے سات کھلاڑی آﺅٹ کیے تو وجے مرچنٹ نے یہ تسلیم کیا کہ وہ انگلینڈ جانے کے حقدار تھے اور ان کی غیر موجودگی سے ٹیم کو نقصان ہوا۔ ان کی اس کارکردگی پر ہندواخبار ’پرتاب‘ نے یہ سرخی جمائی: ’فضل کی جے۔
اس میچ کے چند روز بعد قائد اعظم محمدعلی جناح ،اسلامیہ کالج لاہور آئے۔ پرنسپل نے فضل محمود کا ان سے تعارف کرایا اور کہا کہ یہ نوجوان کرکٹ میں کمالات دکھا رہا ہے تو اس پر قائد اعظم نے کہا کہ ’کیپ اٹ اپ ینگ مین کیپ اٹ اپ۔‘
18فروری 1927 کو لاہور میں آنکھ کھولنے والے فضل محمود نے سکول کے زمانے میں اپنی بولنگ سے سب کی توجہ حاصل کرلی تھی۔ ایک دن پنجاب کرکٹ کلب کی طرف سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے خلاف میچ کے لیے ایک خصوصی کلاس مِس کرنے پر اگلے دن استاد نے پھینٹی لگانے کے لیے چھڑی اٹھائی تو انہوں نے ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ اخبار کا وہ صفحہ اپنے ڈیفنس میں پیش کر دیا جس میں عمدہ بولنگ کی وجہ سے ان کی تصویر شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے آٹھ رنز دے کر چھ کھلاڑی آﺅٹ کیے تھے۔

1951 میں ایم سی سی کے خلاف فضل محمود نے 40 رنز دے کر چھ کھلاڑی آﺅٹ کرکے فتح کی راہ ہموار کی (فوٹو: پن ٹریسٹ)

اخبار دیکھ کر استاد محترم کا غصہ کافور ہوا۔ انہوں نے ہونہار کرکٹر کی کامیابی کی خبر ہیڈ ماسٹر کو دی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طالب علم اور استاد، سکول کے میدان میں جمع ہوگئے جہاں فضل محمود کی کامیابی کا نہایت فخر سے اعلان کیا گیا، پرجوش لڑکوں نے انہیں کندھوں پر اٹھا کر ان کے لیے توصیفی نعرے لگائے۔
سکول میں کامیابیاں اپنی جگہ لیکن فضل محمود کو فضل محمود بنانے میں اسلامیہ کالج، لاہور کا بڑا ہاتھ تھا۔ یہ تعلیمی ادارہ تقسیم سے پہلے کرکٹ کا گڑھ تھا۔ 1954 میں پاکستان کی جس ٹیم نے انگلینڈ کو اوول ٹیسٹ میں ہرایا، اس میں شامل چھ کھلاڑیوں کا اسلامیہ کالج سے تعلق تھا۔ فضل محمود کا اس ادارے سے رشتہ زمانہ طالب علمی سے پہلے استوار ہوچکا تھا، ان کے والد کالج میں معاشیات کے استاد تھے اور ان کا وہاں کی پہلی کرکٹ ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار تھا۔
بچپن میں کرکٹ کی طرف ان کی توجہ والد کے زیر اثر ہوئی جو انہیں کالج کے نیٹ پر لے جاتے۔ اس وقت کسے خبر ہوگی کہ وہ اسلامیہ کالج کرکٹ ٹیم کا حصہ بنیں گے۔ 1945 میں کالج ٹیم کی کپتانی کی جس میں لاہور کے علاقے ٹیکسالی گیٹ کے رہائشی دو ہندو طالب علم نول کشور اور گیان ساگر (1952میں پاکستان ٹیم نے انڈیا کا دورہ کیا تو گیان ساگر امرتسر میں اپنے پرانے ساتھیوں سے ملنے کے لیے آئے) بھی شامل تھے۔
 ایک دفعہ نیٹ پریکٹس کے دوران سینیئر کھلاڑیوں سے اجازت لے کر وہ رٹز سینما میں فلم دیکھنے چلے گئے۔ کرنل اسلم جو کالج میں امورِ کرکٹ دیکھتے تھے،ان کی تلاش میں وقفے کے دوران سینما ہال پہنچ گئے اور انہیں فوراً نیٹ کا رخ کرنے کو کہا۔
انہیں سمجھایا کہ فلمیں زندگی میں آتی جاتی رہیں گی لیکن کرکٹ پریکٹس چھوڑ کر فلم دیکھنے جانے سے کارکردگی متاثر ہوگی۔ فضل محمود نے فلم کا ٹکٹ ایک آنے میں خریدا تھا، اس نقصان کے ازالے کے طور پر کرنل اسلم نے انہیں جو سکہ دان کیا وہ چار آنوں کے برابر تھا۔
 پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے فضل محمود کے کارناموں کا ذکر کرنے سے پہلے یہ بتا دیں کہ 1951 میں ایم سی سی کے خلاف غیر سرکاری ٹیسٹ میں جس فتح نے پاکستان کو ٹیسٹ سٹیٹس دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا اس میں فضل محمود نے 40 رنز دے کر چھ کھلاڑی آﺅٹ کرکے فتح کی راہ ہموار کی۔

اوول ٹیسٹ میں کامیابی سے سب حیران رہ گئے۔ ’وزڈن‘ نے اسے غیر متوقع کامیابی لکھا (فوٹو: وکی پیڈیا)

 1952 میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے دورہ بھارت میں لکھنئو ٹیسٹ میں پہلی دفعہ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں فضل محمود نے 12 وکٹیں لے کر ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
 1954 میں پاکستان ٹیم انگلینڈ کے دورے پر روانہ ہوئی۔ انگلنیڈ کی ٹیم جو 77 برس سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہی تھی اس کا مقابلہ دو برس کی نوخیز ٹیم سے تھا۔ ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم کی جیت کی توقع نہیں تھی، اس لیے اوول ٹیسٹ میں کامیابی سے سب حیران رہ گئے۔ ’وزڈن‘ نے اسے غیر متوقع کامیابی لکھا۔
 فضل محمود نے اس میچ میں 12 وکٹیں حاصل کیں اور اوول کے ہیرو کہلائے۔ پہلی بار کسی ٹیم نے اپنے پہلے دورے میں انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ جتیا۔ انڈیا نے اپنے آٹھویں دورے میں پہلی دفعہ انگلینڈ سے ٹیسٹ جیتا۔
 وزڈن نے جن پانچ کھلاڑیوں کو وزڈن کرکٹرز آف دی ایئر قرار دیا ان میں فضل محمود بھی شامل تھے۔ وہ الیک بیڈسر آف پاکستان کہلائے۔
دوسال پہلے معروف ویب سائٹ کرکٹ انفو پر ایک مضمون میں تاریخِ ٹیسٹ کرکٹ میں ایسی 25 اننگزوں کا احوال بیان کیا گیا جن میں بولروں نے ٹاپ پرفارمنس دکھائی۔ اوول ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 46 رنز کے عوض چھ وکٹوں حاصل کرنے کی ان کی بولنگ پرفارمنس اس فہرست میں نویں نمبر پر تھی۔
1956 میں کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان نے ٹیسٹ میں پہلی کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں فضل محمود نے 13 وکٹیں حاصل کیں۔

1958 میں پورٹ آف سپین میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی دفعہ ٹیسٹ میچ جیتا (فوٹو: اے پی)

1958 میں پورٹ آف سپین میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی دفعہ ٹیسٹ میچ جیتا۔ اس میچ میں فضل محمود نے آٹھ کھلاڑی آﺅٹ کیے۔
22ویں ٹیسٹ میں انہوں نے 100ویں وکٹ حاصل کی، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستان بولر بنے۔
پاکستان کرکٹ کے ابتدائی برسوں میں ٹیم نے جو کامیابیاں حاصل کیں ان میں فضل محمود نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بولنگ کا زیادہ تر بوجھ انہوں نے اٹھا رکھا تھا۔ تین دفعہ انہوں نے میچ میں 12 اور ایک دفعہ 13 وکٹیں حاصل کیں۔ دس ٹیسٹ میچوں میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے۔ 1962 میں انہوں نے اوول میں انگلینڈ کے خلاف اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا۔ یہی وہ میدان تھا جہاں آٹھ سال پہلے ان کی شہرت کا سورج نصف النہار پر تھا اوراب اسی میدان میں وہ غروب ہوگیا۔
 کرکٹ چھوڑنے کے بعد فضل محمود محکمہ پولیس میں بدستور خدمات انجام دیتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد علامہ طاہرالقادری کی تحریک منہاج القرآن میں شامل ہوگئے۔
پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے 1990 میں لاہور سے الیکشن لڑا۔ 2003 میں ان کی آپ بیتی ‘فرام ڈسک ٹو ڈان‘ شائع ہوئی۔ اس سے پہلے ’تلاش حق‘ کے نام سے ان کی ایک مذہبی کتاب چھپ چکی تھی۔
فضل محمود کا 30 مئی 2005 کو لاہور میں انتقال ہوا۔
ہم نے اپنے مضمون کا آغاز سی کے نائیڈو کے ذکر خیر سے کیا اور اب یہ مضمون سمیٹتے ہوئے پھر سے ان کے تذکرے کی طرف پلٹ رہے ہیں جس کے بعد مجید امجد کی نظم ملاحظہ کیجیے۔

فضل محمود جوانی میں بہت خوبرو تھے (فوٹو: اے ایف پی)

 سی کے نائیڈو کی بیٹی نے لکھا ہے کہ ان  کا خاندان تاج الدین ناگپوری کا بڑا معتقد تھا۔ نائیڈو کے گھر والے انہیں بچپن میں ان کے پاس لے کر گئے تو بابا تاج الدین نے کہا کہ ’یہ لڑکا راجہ بنے گا، خوب نام کرے گا۔‘  سی کے نائیڈو نے کرکٹ میں بڑا نام کمایا۔ انڈیا کے پہلے کپتان بنے۔ پہلے سپرسٹار کا درجہ حاصل کیا۔
ممتاز تاریخ دان رام چندر گوہا نے اپنی کتاب ’اے کارنر آف اے فارن فیلڈ: دی ہسٹری آف اے برٹش سپورٹ‘ میں لکھا ہے کہ سی کے نائیڈو پہلے انڈین کرکٹر تھے جو اشتہارات میں آئے اور ان کے نام اور شہرت کو مصنوعات کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا۔
دلچسپ بات ہے کہ پاکستانی کرکٹروں میں فضل محمود پہلے پوسٹر بوائے تھے۔ بریل کریم کی مشہوری کے لیے ان کے نام کا استعمال پاکستانی کرکٹروں کے اشتہارات میں آنے کے سلسلے کا گویا نقطۂ آغاز تھا۔
فضل محمود جوانی میں بہت خوبرو تھے۔ گورا رنگ، نیلی آنکھیں، دراز قامت۔ اوپر سے سپر سٹار۔ ان سب چیزوں نے انہیں محبوب ہستی بنا دیا۔
 1955 میں  ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر ’بھوانی جنکشن ‘کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئیں تو ایک تقریب میں فضل محمود کے حسن سے مسحور ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کے بقول ’فضل محمود کی وجاہت اور نیلی آنکھوں کے سامنے تب کوئی نہ ٹھہرتا تھا۔

 ممتاز شاعر مجید امجد نے فضل محمود پر عمدہ نظم ’آٹو گراف‘  لکھی (فوٹو: فیس بک)

 ممتاز شاعر مجید امجد نے فضل محمود پر عمدہ نظم لکھ کر ان کا نام ادب کی تاریخ میں محفوظ کردیا۔ نظم میں ان کا نام نہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ جس فاسٹ بولر کا ذکر ہے وہ کوئی اور نہیں فضل محمود ہیں۔ نظم کا عنوان ہے: آٹو گراف
 کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر.... حسین لڑکیاں!
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر ،حسین لڑکیاں!
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازؤں، چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے
 گرے، بڑھے،  مڑے بھنور ہجوم کے
کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف
بیاضِ آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نازِ بے نیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروفِ کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیزنبض رک گئی
 وہ بولر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا
وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
میں اجنبی میں بے نشاں
میں پا بہ گل !
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل۔۔۔۔۔ یہ لوحِ دل !
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

شیئر: