Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمرے کی بحالی کے بعد مسجد الحرام میں نمازجمعہ

جمعے کی نماز کے موقع پر سماجی فاصلہ قائم کرایا گیا۔(فوٹو ایس پی اے)
مسجد الحرام اور مسجد نبوی امور کی جنرل پریذیڈنسی کے ترجمان ھانی بن حسنی حیدر نے کہا ہے کہ عمرے کی بحالی پر زائرین نے پہلی مرتبہ مسجد الحرام میں جمعے کی نماز ادا کی ہے۔  
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق ھانی حیدر نے بتایا کہ انتظامیہ کے سربراہ اعلی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے نماز جمعہ کے انتظامات کی براہ راست نگرانی کی۔ چار ہزار سے زیادہ کارکن صبح سے ہی ڈیوٹی پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے ماحول دوست مواد اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے حرم  مکی کو سینیٹائز کیا۔ 

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حرم  مکی کو سینیٹائز کیا گیا۔ (فوٹو ایس پی اے)

ترجمان نے بتایا کہ جمعے کی نماز کے موقع پر سماجی فاصلہ قائم کرایا گیا۔ ایک جا نماز سے دوسری جا نماز کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ رکھا گیا جبکہ ایک صف سے دوسری صف کے درمیان تین میٹر کی جگہ چھوڑی گئی۔ یہ سب اقدامات عمرہ زائرین کی سلامتی کی خاطر کیے گئے۔
ھانی حیدر نے بتایا کہ جنرل پریذیڈنسی نے 9000 سے زیادہ سینیٹائز جا نمازیں فراہم کیں۔ یہ جا نمازیں حرم مکی کی زمینی منزل، پہلی منزل اور شاہ فہد والی توسیع میں بچھائی گئیں۔ 
پریذیڈنسی کے ترجمان نے بتایا کہ عمرے کی بحالی کے بعد پہلے جمعے کی نماز کے موقع پر زائرین میں 4800 آب زمزم کی بوتلیں تقسیم کی گئیں اور یہ سینیٹائز تھیں۔ 

زائرین میں 4800 آب زمزم کی بوتلیں تقسیم کی گئیں۔ (فوٹو ایس پی اے)

ھانی حیدر نے بتایا کہ جمعے کے خطبے کا ترجمہ اردو، انگریزی، فارسی، ملاوی اور فرانسیسی زبانوں میں آن لائن پیش کیا گیا۔ یہ کام مسجد الحرام کا پیغام پوری دنیا میں پہنچانے کی غرض سے کیا جارہا ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر السدیس کی ہدایت پر مسجد الحرام کے ایک، ایک حصے، خارجی صحنوں، آس پاس کی سڑکوں اور حرم مکی کے اطراف واقع علاقے کے ہوٹلوں میں ساؤنڈ سسٹم بحال کردیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکیں۔

شیئر: