Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کرک میں ہندوؤں کی تاریخی سمادھی پر مقامی افراد کا دھاوا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈا داؤد شاہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ٹیری میں قائم ہندوؤں کی تاریخی سمادھی اور مندر پر مقامی مشتعل افراد نے دھاوا بول کر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ 
مقامی پولیس اہلکار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ٹیری کے مقام پر قائم ہندوؤں کی سمادھی اور مندر پر توسیع کا کام کیا جارہا تھا، جس کے خلاف مقامی افراد گذشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے تھے۔ 
پولیس اہلکار کے مطابق بدھ کی صبح دس بجے 70 سے 80 مشتعل افراد نے دھاوا بولا اور زیر تعمیر توسیعی علاقے میں توڑ پھوڑ کی۔ 
مقامی پولیس کے مطابق صورت حال پر فوری طور پر قابو پالیا گیا ہے اور مشتعل مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ 
تحصیل بانڈا داؤد شاہ کے رہائشی حافظ الرحمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ٹیری میں 4 مرلے پر مشتمل ایک سمادھی موجود تھی اور اس میں توسیع کے لیے مندر سے ملحقہ زمین خریدی گئی تھی جس پر مقامی افراد کو تحفظات تھے۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’اس علاقے میں ہندو مذہب کے ماننے والے تو رہائش پذیر نہیں ہیں لیکن پاکستان بھر سے مختلف مواقع پر ہندو مذہب کے ماننے والے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آیا کرتے تھے۔‘ 
حافظ الرحمان کے مطابق ’مندر کی توسیع پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار کروا رہے تھے اور اس کی تعمیر آخری مراحل میں تھی۔‘ 
 ٹیری کے رہائشی ڈاکٹر اسحاق نے اردو نیوز کو واقعے کی تفصیلات کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ ’چند مقامی افراد نے اس مندر کی توسیع کے خلاف مقامی عدالت سے بھی رجوع کر رکھا تھا اور ضلعی انتظامیہ سے بھی درخواست کر رکھی تھی کہ مندر کی توسیع پر کام روکا جائے۔‘
’اس سلسلے میں مولانا شریف کی سربراہی میں جلسے جلوس بھی نکالے گئے اور بدھ کی صبح مشتعل افراد نے اس پر دھاوا بول دیا۔‘

’چند مقامی افراد نے اس مندر کی توسیع کے خلاف مقامی عدالت سے بھی رجوع کر رکھا تھا‘ (فوٹو: ڈاکٹر اسحاق)

پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مقامی مولوی مولانا شریف نے اس سے قبل 1997 میں بھی اس مندر کی توڑ پھوڑ کی تھی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس سمادھی اور مندر کی دوبارہ تعمیر شروع کی گئی۔‘
ڈاکٹر رمیش کمار کے مطابق ’ایک مقامی شخص سے سمادھی سے ملحقہ گھر خرید کر اس کی توسیع پر کام کیا جارہا تھا جبکہ سمادھی کی توسیع کے لیے ضلعی انتظامیہ کے سامنے معاہدہ طے پایا تھا۔‘ 
پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین کے مطابق ’مندر کی توسیع کے لیے مقامی افراد اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کیا اور اس معاہدے میں ضلعی انتظامیہ مقامی افراد اور پولیس بھی شامل تھی۔‘ 
پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے 2014 میں مندر کی تعمیر سے متعلق فیصلہ دیا تھا اور اس کی تعمیر کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔‘ 
وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختوخوا حکومت ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائے۔
انہوں نے کہا کہ بحیثیت حکومت یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے شہریوں اور ان کی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔
ٹیری کے مقام پر قائم یہ سمادھی تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بارے میں ہندو مذہب کے ماننے والے کہتے ہیں کہ یہاں کرشن دوارا نام کا ایک مندر بھی موجود تھا۔ 
ہندو مذہب کے ماننے والوں کے مطابق جہاں یہ مندر تعمیر کیا گیا ہے وہاں پر گرو پرمانس ٹیری کے قصبے میں رہائش پذیر تھے جہاں دیگر ہندو بھی رہتے تھے اور ٹیری قصبے میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔
پوری دنیا میں گرو پرمانس کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ 

’ٹیری میں سمادھی کی توسیع کے لیے مندر سے ملحقہ زمین خریدی گئی تھی‘ (فوٹو: سوشل میڈیا)

پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین کے مطابق ’یہ ہندو مذہب کی پاکستان میں چوتھی بڑی سمادھی ہے اور اس واقعے سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچے گا۔‘ ’اگر انتظامیہ اور پولیس نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی تو پھر ہندو مذہب کے ماننے والے پُرامن لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔‘
وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے اور پولیس کو ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

شیئر: