Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پڑوسی کے گھر لاش لٹکتی ہوئی دیکھی،‘ مری میں 14 سال کے بچے کو کیوں قتل کیا گیا؟

مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ ’اُن کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور وہ کسی پر شبہ نہیں کر رہے‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
پاکستان کے معروف سیاحتی مقام مری کے گاؤں لوئر دیول میں 14 سال کے بچے کے مبینہ قتل کا ایک دِل خراش واقعہ پیش آیا ہے، جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آٹھویں جماعت کے طالب علم عبدالمعیز پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، وہ منگل کو والد کے کہنے پر دُکان جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے مگر اگلی صبح پڑوسی کے گھر سے اُن کی لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔
مقتول بچے کے چچا فیاض احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’وہ صبح جب نماز پڑھنے کے بعد گھر واپس آرہے تھے، تو پڑوسی کے گھر کے برآمدے میں اپنے بھتیجے کی لاش لٹکتی ہوئی دیکھی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’منگل کی سہ پہر بچے کے لاپتا ہونے کے بعد سے وہ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر عبدالمعیز کو تلاش کرتے رہے، مگر کوئی سُراغ نہ مل سکا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں نے اس دوران متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی اور پولیس کو بچے کی گمشدگی کے بارے میں آگاہ کیا۔‘
واقعے سے متعلق مقتول کے والد سجاد احمد نے پولیس کو بتایا کہ ’انہوں نے اپنے بیٹے کو دوپہر قریباً 12 بجے لاسرائی بازار بھیجا تھا، لیکن وہ واپس نہیں آیا۔ اہلِ خانہ اور پڑوسیوں نے تلاش جاری رکھی مگر کوئی سُراغ نہ مل سکا۔‘
پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر لاپتا ہونے والے بچے کی ایف آئی آر تھانہ پھگواڑی میں درج کی گئی تھی، جس میں اب قتل کی دفعات شامل کر کے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’لوئر دیول لاسرائی کے رہائشی سجاد احمد، جو مستری کا کام کرتے ہیں، نے منگل کو قریباً دوپہر 12 بجے اپنے بیٹے کو بازار بھیجا، تاہم بچہ واپس نہیں آیا۔‘
مقتول بچے کے چچا فیاض احمد کا واقعے سے متعلق مزید کہنا تھا کہ ’اُن کا بھتیجا پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔‘

 ڈی پی او مری نے بتایا کہ ’مقتول بچے کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے بیانات ریکارڈ کر کے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے‘ (فائل فوٹو: فلِکر)

’عبدالمعیز عموماً ایک دن میں بازار کے دو سے تین چکر لگاتا تھا اور کچھ ہی دیر میں واپس آجاتا تھا، لیکن گذشتہ روز اس کا یہ سفر اُن کے لیے بدقسمت ثابت ہوا اور آخرکار اسے لاش کی صورت میں پایا گیا۔‘
فیاض احمد نے پولیس کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ تفتیش تاحال جاری ہے، تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے بھتیجے اور خاندان کے لیے انصاف یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اُن کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، اس لیے وہ کسی پر شبہ نہیں کر رہے۔
واقعے سے متعلق لوئر دیول کے رہائشی نوجوان عمر عباسی کا کہنا ہے کہ ’اُن کے گاؤں میں ہی نہیں بلکہ پورے مری میں یہ بچے کے قتل کا اس طرح کا پہلا واقعہ ہے۔ایک بچے کو برآمدے کی چھت کے ساتھ لٹکا ہوا دیکھنا انتہائی دردناک منظر تھا۔‘
دوسری جانب ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پولیس اس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔‘

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عبد المعیز کی ساتھ جنسی بدفعلی اور زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)

انہوں نے کہا کہ ’پولیس نے جائے وقوعہ کا ابتدائی معائنہ مکمل کر لیا ہے اور فورینزک شواہد بھی جمع کر لیے گئے ہیں جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘
ڈی پی او مری نے مزید بتایا کہ ’مقتول بچے کے اہلِ خانہ اور گاؤں کے دیگر افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور کیس متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ شواہد کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔‘
مری سے رکن قومی اسمبلی راجا اسامہ اشفاق سرور کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے مری پولیس اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعے کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔‘
عبد المعیز کی ساتھ جنسی بدفعلی اور زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے
مقتول کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عبد المعیز کی ساتھ جنسی بدفعلی اور زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
عبد المعیز کی موت دَم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گلے پر نوکیلی پتلی اور رسی نما چیز سے سانس روکا گیا جبکہ جسم کے دیگر اعضا پر بھی تشدد کے شواہد ملے۔

شیئر: