خواتین خودکش بمبار اور جدید اسلحہ، پاکستان کے ’عسکریت پسندوں کی طاقت‘
طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ’خواتین کی شمولیت بھرتی میں اضافہ کرنے میں معاون ہے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
یاسما بلوچ اور ان کے شوہر وسیم عسکری وردیوں میں ملبوس، کندھوں پر رائفلیں لٹکائے کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہین۔ یہ وہ تصویر ہے جو پاکستان کے عسکریت پسندوں نے اپنے آخری مشن ’خودکش دھماکے‘ کے بعد جاری کی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے لیکن سب سے پسماندہ صوبے میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کےعسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد گذشتہ سال ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔
وزیر مملک برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ’خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت بھرتی میں اضافہ کرنے میں معاون ہے۔‘
انہوں نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس سے گروپ کو مقبولیت ملتی ہے اور اپنی کمیونٹی پر اثر انداز ہونے کے لیے یہ دکھاتا ہے کہ جنگ اب ان کے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔‘
طلال چوہدری نے مزید بتایا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کی آن لائن بھرتی کے معاملے کو کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ اُٹھایا ہے۔
بی ایل اے کے ایک ترجمان نے تبصرے کے لیے جواب نہیں دیا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے مطابق جنوری میں گروپ کی سب سے بڑی کارروائی میں حصہ لینے والی چھ خواتین میں تین خودکش بمبار شامل تھیں۔ اس حملے میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان حملوں سے قبل، ریکارڈز کے مطابق مجموعی طور پر بی ایل اے کی پانچ خواتین خودکش بمبار تھیں جن کا پہلا حملہ 2022 میں ہوا جبکہ حالیہ چند مہینوں میں تین مزید ممکنہ بمباروں کو انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔
حکام صرف چند خواتین کو جانتے ہیں جو بی ایل اے میں شامل ہوئی ہیں لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ بھرتیاں ظاہر کرتی ہیں کہ گروپ کی مقبولیت بلوچ عوام میں بڑھ رہی ہے۔
ساؤتھ ایشیا کے سینیئر تجزیہ کار پیئرل پانڈیا کا کہنا ہے کہ ’اب عسکریت پسند گروپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت مردانہ قبائلی اور جاگیردار طبقات تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کے وسیع تر حصے تک پھیل گئی ہے۔‘
خواتین کی شرکت اس تحریک کو مضبوط کرتی ہے جس کے بارے میں پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر کے اپنی جنگی طاقت بڑھا لی ہے۔
سنگاپور کی نایانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں عسکریت پسندی پر تحقیق کرنے والے عبدالباسط کہتے ہیں کہ ’آج کے جنوبی ایشیا میں، بی ایل اے سب سے منظم اور مہلک باغی گروپ ہے۔‘
فوج کے مطابق پاکستان نے گزشتہ سال جون تک 272 امریکی رائفلیں اور 33 نائٹ وژن آلات قبضے میں لیے اور یہ تازہ ترین بلوچستان حملوں میں برآمد ہونے والے ہتھیاروں کے علاوہ ہیں۔
جنوری میں ہونے والے حملے سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہتھیار پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں۔‘
پینٹاگون نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
تبصرے کی درخواست کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ’جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا، جو بائیڈن کا افغانستان سے انخلا ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک دن تھا، جس کے نتیجے میں افسوسناک طور پر 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور طالبان کے ہاتھوں ہتھیاروں کا ضیاع ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ نجی گفتگو کے بارے میں بات نہیں کرتے۔‘
بعدازاں ان 216 جنگجوؤں سے گرنیڈ لانچرز سے لے کر درجنوں ایم 16 اور ایم 4 رائفلیں برآمد کی گئیں جو سکیورٹی فورسز کے مطابق تقریباً ایک ہفتے کی لڑائی میں ہلاک ہوئے تھے۔
روئٹرز تصدیق نہیں کر سکی کہ بی ایل اے حملوں میں استعمال ہونے والے جدید ہتھیار امریکی تھے یا کہیں اور سے آئے تھے۔
امریکی دفاعی محکمہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے سات ارب ڈالر کے سازوسامان میں سے افغان فورسز کو 427,300 ہتھیاروں میں سے 300,000 سے زیادہ ملے تھے۔
عسکریت پسندوں کو امید ہے کہ خواتین کی بھرتیوں کی تشہیر ان کی مقبولیت میں اضافہ کرے گی۔
سنگاپور کی نایانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے محقق عبدالباسط نے مزید کہا کہ ’وہ خواتین کو ہائی پروفائل حملوں میں استعمال کر کے اپنی موجودگی واضح کر رہے ہیں۔‘
پاکستان کے انسداد دہشت گردی محکمہ نے دسمبر کی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ خواتین مختلف سماجی و اقتصادی پس منظر سے آتی ہیں، کچھ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ بھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی دہشت گردانہ حربوں میں خطرناک ارتقاء کی نمائندگی کرتی ہے۔
