نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ، سولر صارفین کے کنٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے، وزیراعظم کی ہدایت
بدھ 11 فروری 2026 16:29
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
وزیراعظم شہباز شریف نے سولر صارفین کے لیے متعارف کروائے گئے نئے ریگولیشنز کے اجرا کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیپرا میں فوری نظرثانی کی اپیل دائر کرے۔
بدھ کو وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’شہباز شریف نے کہا ہے کہ سولرصارفین کے کنٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘
’وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو سولر اور گرڈ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دینےکی بھی ہدایت کی ہے۔‘
یاد رہے کہ نیپرا نے 9 فروری کو جاری اپنے نوٹیفیکیشن میں نئے سولر ریگولیشنز جاری کیے تھے، جس میں نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروا دیا گیا۔
اس اقدام پر نیپرا اور پاور ڈویژن پر تنقید کی جا رہی تھی جبکہ سولر صارفین بھی مایوسی کا شکار تھے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے اجرا پر اجلاس میں سولر صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ سولر سے مستفید ہونے والے چار لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ تین کروڑ 76 لاکھ سے زائد صارفین پر نہ پڑے، جو صرف نیشنل گرڈ سے بجلی استعمال کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ صارفین کے مفاد کے تحفظ کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دے اور نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے اطلاق میں شفافیت اور احتیاط کو یقینی بنائے
نیپرا کی جانب سے جاری کی گئی نیٹ بلنگ پالیسی کیا ہے؟
پاکستان میں بجلی شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کرتے ہوئے نیٹ بلنگ کو متعارف کرایا ہے۔
اس سلسلے میں نئے سولر صارفین ریگولییشنز جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت سولر صارفین سے اضافی بجلی قریباً ساڑھے گیارہ روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی جبکہ ان کے ساتھ معاہدے کی مدت بھی 7 سال کے بجائے 5 سال کر دی گئی ہے۔
اب نئے سولر صارفین کو اپنی پیدا کردہ بجلی گرڈ کو موجودہ نرخ (ٹیرف) پر بیچنا ہوگی۔ اب وہ اپنے یونٹس کے بدلے یونٹ کے کریڈٹ کے نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، یعنی ہر یونٹ کی بجلی کے بدلے اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
سولر صارفین کے لیے گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کو ایک کے بدلے ایک کی بنیاد پر استعمال شدہ بجلی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کیا جائے گا، جبکہ اضافی شمسی بجلی نسبتاً کم مقررہ نرخ پر ڈسکوز کو فروخت کی جائے گی۔
نیپرا کے نوٹیفیکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نئے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق بائیو گیس صارفین پر بھی ہوگا۔
ریگولیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی پر صارفین کو ماہانہ بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی جبکہ نیٹ بلنگ کے لیے معاہدے کی مدت پانچ سال تک ہوگی جو پہلے سات سال تھی۔
معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید پانچ سال کے لیے اس کی تجدید کی جا سکے گی۔ نئے ریگولیشنز کے بعد نیٹ میٹرنگ ریگولیشن 2015 کو معطل کر دیا گیا ہے۔
نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ میں فرق کیا ہے؟
نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ بنیادی طور پر دو مختلف نظام ہیں، جن کے تحت سولر صارفین اپنی پیدا کی گئی بجلی کو قومی گرڈ کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہیں۔
اگر نیٹ میٹرنگ کی بات کی جائے تو اس نظام میں صارف کی جانب سے گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی اور گرڈ سے لی گئی بجلی کو یونٹ کے حساب سے برابر سمجھا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یونٹ دینے پر ایک یونٹ کا کریڈٹ ملتا ہے، جس سے بجلی کے بل نمایاں طور پر کم یا بعض اوقات صفر ہو جاتے ہیں۔
تاہم اس کے برعکس نیٹ بلنگ کے نظام میں صارف کو گرڈ میں دی گئی بجلی کے بدلے یونٹ کے بجائے ایک مقررہ مالی معاوضہ دیا جاتا ہے جو عموماً عام بجلی کے نرخ سے کم ہوتا ہے جبکہ گرڈ سے لی گئی بجلی مکمل ٹیرف پر بل کی جاتی ہے۔
ماہرین نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کا یونٹ کے بدلے یونٹ کریڈٹ نظام بجلی کے گرڈ اور قومی خزانے پر مالی بوجھ ڈال رہا تھا، اس لیے نیٹ بلنگ کے ذریعے نظام کو زیادہ مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ نیٹ بلنگ میں کم معاوضہ سولر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا، جس سے پے بیک پیریڈ بڑھے گا اور عوام کی سولر توانائی میں دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔
لاہور میں مقیم توانائی ماہر علی خضر نے اردو نیوز کو بتایا کہ جب نیٹ میٹرنگ 2016 میں متعارف کروائی گئی تھی تو اس وقت سولر سسٹمز کی قیمتیں خاصی زیادہ تھیں اور اسی تناظر میں یہ پالیسی تشکیل دی گئی تھی، تاہم اب سولر ٹیکنالوجی نسبتاً سستی ہو چکی ہے، جس کے باعث اس میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں حکومت اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے سبسڈیز بھی دیتی رہی، لیکن بعد ازاں وہ سبسڈیز ختم کر دی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سولر صارفین کی تعداد بڑھنے اور گرڈ سے بجلی کے استعمال میں کمی کے باعث اس کا مالی بوجھ بتدریج دیگر صارفین پر منتقل ہونے لگا، جس پر حکومت کو توجہ دینا ضروری ہو گیا تھا۔
واضح رہے نئے ریگولیشنز کا اطلاق صرف نئے صارفین پر ہوگا، جبکہ پہلے سے نیٹ میٹرنگ کے تحت معاہدہ رکھنے والے صارفین اپنے موجودہ معاہدوں اور شرائط کے مطابق ہی مستفید ہوتے رہیں گے۔
جو صارفین پہلے سے نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹرڈ ہیں وہ اپنے موجودہ معاہدے کی مدت پوری ہونے تک پرانے طے شدہ ریٹ پر ہی بجلی گرڈ کو فراہم کرتے رہیں گے، جو عموماً قریباً 26 سے 27 روپے فی یونٹ کے قریب ہے۔ نئے کم نرخ (نیٹ بلنگ) صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے۔