کالعدم بی ایل اے کے بشیر زیب اور رحمان گل کے سر کی قیمت 25، 25 کروڑ روپے مقرر، حیربیار اور براہمداغ بھی مطلوب
بدھ 11 فروری 2026 16:51
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان حکومت نے 39 افراد کے نام اور تصاویر اخبارات میں شائع کرتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیا ہے اور ان کے سروں کی قیمت مقرر کی ہے۔ ان میں بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب اور مجید بریگیڈ کے کمانڈر رحمان گل کے علاوہ حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی جیسے نام بھی شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے بدھ کی صبح کوئٹہ کے بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر ’انتہائی مطلوب دہشتگرد‘ کے عنوان سے نصف صفحے کا ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں ان افراد کے نام، عرفیت، پتے اور تصاویر شامل ہیں۔
اشتہار میں ان افراد کے بارے میں مدد دینے والوں کے لیے پانچ لاکھ روپے سے لے کر 25 کروڑ روپے کے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ رقم ایک ارب 38 کروڑ روپے بنتی ہے۔
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ مستند، درست اور قابل عمل معلومات پر فوری کارروائی کی جائے گی، جبکہ اطلاع دینے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دو ہیلپ لائن نمبرز 1719 اور 1213 بھی دیے گئے ہیں۔
سب سے زیادہ انعام بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب عرف کامریڈ بشیر اور بی ایل اے کی ذیلی تنظیم ’مجید بریگیڈ‘ کے کمانڈر رحمان گل عرف استاد مرید کے لیے مقرر کیا گیا ہے جن کے سروں کی قیمت 25، 25 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں کا تعلق نوشکی سے بتایا جاتا ہے۔
ان کے بعد 15، 15 کروڑ روپے انعام ندیم عرف قمبر اور میر سفیر احمد عرف جیئند بلوچ کے لیے رکھا گیا ہے۔
فہرست کے مطابق میر سفیر احمد کا تعلق مستونگ کے علاقے کردگاپ سے ہے جبکہ ان کی موجودہ رہائش افغانستان کے شہر قندھار اور ایک دوسرے ملک لکھی گئی ہے۔ مطلوب دہشت گردوں میں ہرنائی سے تعلق رکھنے والے ہیبتان کا عارضی پتہ بھی افغانستان لکھا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اشتہار میں دیئے گئے نام کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں اور اب انہیں شائع کر کے عوام سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بشیر زیب کے سر کی قیمت 20 لاکھ اور رحمان گل کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے تھی جو اب بڑھا کر 25 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ ان کے مقابلے میں حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے انعام کی رقم بہت کم یعنی صرف 10، 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچستان حکومت نے براہمداغ بگٹی کے ساتھ ساتھ ان کے دو قریبی ساتھیوں ریاض گل اور شیر محمد بگٹی کو بھی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے اور ان کے سروں کی قیمت 25، 25 لاکھ روپے مقرر کی ہے۔
اس سے قبل مارچ 2016 میں بھی بلوچستان حکومت نے 99 مطلوب افراد کی فہرست جاری کی تھی جس میں بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا نام شامل تھا تاہم اس بار ان کا نام اشتہار میں شامل نہیں۔
تازہ فہرست میں شامل نواب خیر بخش مری کے بیٹے حیربیار مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی بلوچستان کی سیاست اور قبائلی پس منظر میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔ حیربیار مری کے بڑے بھائی نواب جنگیز مری بلوچستان اسمبلی کے رکن اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما ہیں جبکہ براہمداغ بگٹی کے دادا نواب اکبر بگٹی صوبے کے گورنر اور وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور ان کے خاندان کے کئی افراد اب بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ حیربیار مری بی ایل اے کے ایک دھڑے (آزاد) کی سربراہی کر رہے ہیں جبکہ براہمداغ بگٹی پر بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) قائم کرنے اور اس کی پشت پناہی کا الزام ہے۔ بی آر اے کو حکومت کالعدم اور دہشتگرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔
حیربیار مری کم از کم دو دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ براہمداغ بگٹی اگست 2006 میں پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دور میں اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کے آپریشن میں مارے جانے تک ان کے ساتھ تھے۔ اس کے بعد وہ افغانستان جا کر روپوش ہو گئے اور پھر سوئٹزرلینڈ منتقل ہوگئے۔ انہوں نے خاندان میں اختلافات کے بعد اپنے دادا کی پارٹی جمہوری وطن پارٹی کا نام تبدیل کر کے بلوچ ری پبلکن پارٹی رکھا اور اس کے موجودہ سربراہ بھی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور براہمداغ بگٹی ایک دوسرے کے سیاسی و قبائلی حریف سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں کے خاندان 80 کی دہائی کے آخر سے ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں۔ ان اختلافات میں تشدد کا عنصر بھی شامل رہا ہے۔
محکمہ داخلہ کی دسمبر 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق براہمداغ بگٹی کے خلاف ڈیرہ بگٹی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، دھماکوں اور بھتہ خوری کے الزامات کے تحت 45 سے زائد مقدمات درج ہیں۔
حیربیار مری کو سنہ 2007 میں پاکستان کی شکایت پر برطانیہ میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ وہ جسٹس نواز مری کے قتل سمیت مختلف مقدمات میں نامزد ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اپنے بھائی سابق رکن بلوچستان اسمبلی بالاچ مری کی نومبر 2007 میں افغانستان میں موت کے بعد حیربیار مری بی ایل اے کی سربراہی کر رہے ہیں۔
یہ اشتہار ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب گذشتہ ہفتے بلوچستان کے 12 شہروں میں بی ایل اے کی جانب سے بیک وقت درجنوں بڑے حملے کیے گئے۔ حکومت کے مطابق ان حملوں میں عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 58 افراد ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائیوں میں 216 حملہ آور مارے گئے۔ ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں ان کے 50 ’فدائیوں‘ نے بھی حصہ لیا ۔ان حملوں کے بعد گذشتہ روز سکیورٹی فورسز نے نوشکی کے علاقے احمدوال میں بشیر زیب کے آبائی گھر کو بھی مسمار کیا تھا۔
سنہ 2017 میں تنظیم کے اندر اختلافات کے باعث بی ایل اے دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی تھی۔ ایک دھڑے کی قیادت اسلم بلوچ عرف اسلم اچھو کے پاس تھی جبکہ دوسرے کی مبینہ سربراہی حیربیار مری کر رہے ہیں۔ اسلم اچھو سنہ 2018 میں قندھار میں خودکش حملے میں ہلاک ہوئے جس کے بعد بشیر زیب نے اس دھڑے کی قیادت سنبھالی۔ بی ایل اے کے اس دھڑے کو جئیند کے نام سے جانا جاتا ہے جو سخت گیر اور وسیع اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
رحمان گل، جن کے سر پر بھی 25 کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے، بی ایل اے کے دوسرے سب سے اہم کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان کی فوج میں کیپٹن تھے اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد فوج چھوڑ کر فرار ہوئے اور پھر بی ایل اے میں شامل ہو گئے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وہ بی ایل اے کے خودکش یونٹ ’مجید بریگیڈ‘ کی سربراہی کرتے ہیں اور خودکش حملہ آوروں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ بشیر زیب، رحمان گل اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ اللہ نذر افغانستان میں موجود ہیں۔
چند ماہ قبل بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے تانے بانے ہمسایہ ممالک سے بھی ملتے ہیں اور کئی دہشت گرد بیرون ملک موجود ہیں اور حکومت نے ان کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے نومبر 2025 میں ایک خصوصی ’ریڈ نوٹس سیل‘ قائم کیا ہے جو وزیراعلیٰ کی سربراہی میں کام کر رہا ہے۔
صوبائی سیکریٹری داخلہ کے بقول حکومت بیرون ملک دہشت گردوں کی گرفتاریوں کے لیے انٹر پول سے بھی رابطہ کرے گی۔ اس سلسلے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر سرکاری ادارے ضروری کارروائیاں کر رہے ہیں، جلد ان پر پیشرفت سامنے آئے گی۔
بلوچستان حکومت کے ذرائع نے اردو نیوز کوبتایا ہے کہ ’ماضی میں بھی حکومت نے بیرون ملک خاص کر یورپ میں موجود متعدد مطلوب افراد کے خلاف انٹرپول سے رجوع کیا تھا اور ڈوزئیر جمع کرائے تھے، لیکن قواعد و ضوابط اور قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر انٹرنیشنل ریڈ وارنٹ جاری ہونے کی درخواستیں منظور نہیں ہو سکیں۔ اب حکومت نے مطلوبہ تقاضے مکمل کر کے دوبارہ درخواستیں جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
حکومتی ذرائع کے مطابق اگست 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن کی فہرست میں شامل کیا ہے جس کے بعد حکومت کو انٹر پول کی کارروائی میں پیشرفت کی توقع ہے۔
اس سے پہلے محکمہ داخلہ بلوچستان نے مارچ 2016 میں 99 افراد کی فہرست جاری کرتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیا تھا لیکن براہمداغ بگٹی، حیربیار مری، سردار اختر مینگل کے بھائی جاوید مینگل اور چند دیگر رہنماؤں کے نام اس حتمی فہرست میں شامل نہیں کیے گئے تھے۔ حالاںکہ صوبائی محکمہ داخلہ نے حساس اداروں کی سفارش پر ان کے ناموں کو شامل کرنے کی سمری اس وقت کے وزیراعلیٰ کو بھیجی تھی۔ براہمداغ بگٹی اور دیگر کے نام شامل نہ کرنے پر اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت کی صوبائی حکومت ان بیرون ملک موجود رہنماؤں سے مذاکرات کی کوشش کر رہی تھی۔ سنہ 2012 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے براہمداغ سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ براہمداغ بگٹی سے 2013 کے بعد بننے والی حکومت کی مذاکرات کی کوششیں ناکام ہوئیں۔ سنہ 2022 میں دوبارہ رابطے کی خبریں سامنے آئیں، اس کے بعد براہمداغ بگٹی سے وابستہ کالعدم اور مسلح تنظیم بلوچ ری پبلکن آرمی کی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہیں۔
اشتہار میں درجنوں دیگر افراد کے سروں کی قیمت پانچ لاکھ سے 10 کروڑ روپے تک مقرر کی گئی ہے۔ کچھی کے رہائشی محمد فاروق عرف کامریڈ اور سانگان سبی کے رہائشی جعفر خان پر 10، 10 کروڑ روپے انعام رکھا گیا ہے۔ نوشکی کے مشتاق مینگل عرف کوہی اور رستم عرف گائندی کے سروں کی قیمت پانچ، پانچ کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
ظہیر شاہ عرف مجید کمانڈ، ثنااللہ ولد ریاض گل، ہیتان اور خیر بخش عرف خیرو کے بارے میں مستند اطلاع دینے والوں کے لیے دو، دو کروڑ روپے انعام رکھا گیا ہے۔
سانگان سبی کے شفیع محمد عرف توکل کے سر پر ایک کروڑ روپے اور نائیک محمد، اللہ گل، شہداد اسماعیل عرف کمانڈر منڈوس، فدا شاہ عرف کاشک، زاہد حسین عرف بلوچ، جلال، جلیل عرف شل، وحید بخش عرف ماجو، گل میر عرف شاہ میر اور چندا کوڈے عرف چاندی کے سروں کی قیمت 50، 50 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
اشتہار کے مطابق پرویز عرف شہزاد اور شاہ میر کے لیے 30، 30 لاکھ جبکہ نثار عرف قاضی کے بارے میں اطلاع دینے پر 25 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔
