Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہم جیسے مظلوم لوگ وزیراعظم کو کیسے بلیک میل کرسکتے ہیں؟‘

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی جانب سے جاری دھرنے کے شرکا اور مچھ میں قتل کیے گئے مقتولین کے لواحقین نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نہتے لوگ کیسے ایک ملک کے وزیراعظم کو بلیک میل کرسکتے ہیں؟ انہوں نے وزیراعظم کے آنے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ 
وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے روز بیان دیا تھا کہ ’حکومت مقتول کان کنوں کے لواحقین کے سارے مطالبات مان چکی ہے۔ اب یہ مطالبہ کرنا کہ وزیراعظم کے آنے تک تدفین نہیں کریں گے اس طرح کسی ملک کے وزیراعظم کو بلیک نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشیں آج دفنا دیں تو میں آج ہی کوئٹہ آجاﺅں گا۔‘ 
وزیراعظم کا یہ بیان ٹی وی پر نشر ہونے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ دھرنے میں شریک افراد نے ان کا بیان اپنے موبائل فون پر سنا تو غم و غصے کا اظہار کیا۔
دھرنے کے فوکل پرسن اور مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری ارباب لیاقت علی کا کہنا ہے کہ ’ہم وزیراعظم عمران خان کو کیسے بلیک میل کرسکتے ہیں؟ کیا ہم چور ہیں، کیا ہم قاتل ہیں یا پارلیمنٹ میں ہمارے ارکان ہیں جن کے ذریعے ہم ان سے ناجائز مطالبات منوا رہے ہیں؟‘
’یہ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو آنا چاہیے اور یہ کوئی ناجائز مطالبہ نہیں۔ عمران خان نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ مسٹر یُوٹرن ہیں۔‘ 
ارباب لیاقت علی کے مطابق ’لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے آنے تک دھرنے پر بیٹھے رہیں گے چاہیے کتنی ہی دیر کیوں نہ لگے۔‘
دھرنے کی انتظامیہ میں شامل شازیہ ہزارہ کا کہنا تھا کہ ’ہم بیس برسوں سے لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ مچھ واقعے میں ایک ہی گھر کے پانچ لوگوں کے جنازے اٹھے ہیں، اب ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں بچا، ایسے مظلوم لوگ وزیراعظم کو کیسے بلیک میل کرسکتے ہیں؟‘

دھرنے میں شریک ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کسی کی ہمدردیاں نہیں بلکہ انصاف چاہیے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ’مچھ میں قتل کیے گئے دس کان کن پاکستان کے خلاف لڑنے نہیں بلکہ اپنے گھر والوں کی کفالت کرنے گئے تھے۔ وزیراعظم کو اس بیان پر شرم آنی چاہیے۔‘
’اُن کے اس بیان پر انہیں ووٹ دینے والے بھی شرمندہ ہوں گے کہ کیسے شخص کو منتخب کیا۔ بلاول بھٹو آئے، مریم نواز ایک عورت ہوتے ہوئے بھی کوئٹہ پہنچیں اور یکجہتی کا اظہار کیا تو عمران خان کیوں نہیں آسکتے؟‘
مچھ واقعے میں قتل کیے گئے 18 سالہ کان کن احمد شاہ کی بہن اریبہ بی بی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کر رہے، عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں وہ کیوں اتنے خوفزدہ اور خود کو کمزور محسوس کررہے ہیں؟‘
’وہ آئیں ہمارے زخموں پر مرہم رکھیں، ہمیں دلاسہ دیں اور یکجہتی کا اظہار کریں۔ ہمیں یہ یقین دلائیں کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔‘

’وزیراعظم آئیں اور ہمیں یقین دلائیں کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم دھرنے میں آکر دیکھیں کہ کیسے ہمارے پیاروں کو گلے کاٹ کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔‘ 
بلاول بھٹو اور مریم نواز کی کوئٹہ آمد اور دھرنے کے شرکا سے ملاقات سے متعلق اریبہ بی بی کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں کے آنے سے ہمارے احتجاج پر فرق پڑا ہے اور باقی جماعتیں بھی یہاں آئی ہیں، سب نے ہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے تو عمران خان کو بھی آجانا چاہیے۔‘ 
دھرنے میں شریک پندرہ سالہ طالبہ اسفرین ہزارہ کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز یا بلاول بھٹو سمیت کسی کے آنے سے فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں کسی کی ہمدردیاں نہیں بلکہ انصاف چاہیے۔‘ 
وزیراعظم عمران خان نے جب ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’حکومت نے سانحہ مچھ کے متاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اپنے ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے‘ تو اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کا طوفان برپا ہو گیا اور اسی سے متعلق ٹرینڈز بھی بننا شروع ہو گئے۔ 

’مریم نواز اور بلاول بھٹو دھرنے میں آسکتے ہیں تو وزیراعظم کیوں نہیں آسکتے؟‘ (فوٹو: اے ایف پی)

یاد رہے کہ اسلام آباد میں جمعہ کے روز سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’اپنے ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے، سانحہ مچھ کے متاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔‘
وزیراعظم کے اس بیان پر جہاں بیشتر ٹوئٹر صارفین ناراض دکھائی دیے وہیں کئی صارفین نے ان کی حمایت میں بھی ٹرینڈ چلایا۔
وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی ندیم افضل چن نے ٹویٹ کی کہ ’اے بے یار و مدد گار معصوم مزدوروں کی لاشو۔۔۔میں شرمندہ ہوں۔‘
اسفند زار نامی ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین و حضرات بلیک میلرز پیش کیے جا رہے ہیں۔ تصور کریں ان کی انا ان معصوموں سے بڑی ہے۔ انہوں نے انہیں ’بلیک میلرز‘ قرار دیا ہے جو پرامن طریقے سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاریخ اس پتھر دل وزیراعظم اور اس کے بیمار ذہینت کے حامیوں کو یاد رکھے گی۔‘

سید محمد تقی حیدر نے لکھا کہ ’میں بہت پچھتاوا اور شرمندگی محسوس کر رہا ہوں کہ میں نے اور میرے خاندان نے انہیں ووٹ دیا اور یہ سوچا کہ یہ انسان ہماری کمیونٹی کے لیے کچھ کرے گا۔‘

 وزیراعظم کے بیان نے ان کے حامیوں اور ووٹرز کو بھی رنجیدہ کیا اور وحید طفیل نے ٹویٹ میں عمران خان کو مینشن کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آپ کو اس لیے ووٹ نہیں دیا۔‘

عمران خان کے اس بیان کے بعد جب ان پر تنقید شروع ہوئی تو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ڈیجیٹل میڈیا ترجمان اظہر مشوانی بھی میدان میں اتر آئے اور اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’وزیراعظم نے کہا ہے کہ جیسے ہی آپ تدفین کریں گے میں فوراً کوئٹہ آجاؤں گا اور تدفین کو وزیراعظم کے آنے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’کئی لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی لیکن پاکستان میں ہر ماہ دہشت گردی کے کئی واقعات ہوتے ہیں، اس طرح کی شرائط پھر ہر کمیونٹی کی عام روٹین بن جائے گی۔

اسامہ جدون نے بھی عمران خان کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان درست ہیں۔ پہلے میتوں کو دفنائیں پھر وہ آئیں گے۔ کیونکہ وہ مرے ہوؤں سے بات کرنے نہیں آنا چاہتے لیکن زندہ لوگوں سے بات کریں گے۔ ان کی لاشوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال مت کریں۔‘

سجاد حسین چنگیزی نے ٹویٹ کی کہ ’ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کوئٹہ آکر سوگوار لواحقین سے معافی مانگیں۔‘

وزیراعظم کی حمایت میں ہزاروں ٹویٹس بھی سامنے آئیں لیکن صارفین کی اکثریت نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

شیئر: