Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دل ہوا بو کاٹا‘: وہ گانے جن کے بغیر بسنت ادھوری سمجھی جاتی تھی

اندرون لاہور کی ایک پرانی اور اونچے گھر کی چھت، نیچے تنگ گلیاں، اوپر کھلا آسمان۔ چھت کے ایک کونے میں لکڑیوں سے بنا دیسی ساؤنڈ سسٹم رکھا ہے، دو بڑے سپیکر، درمیان میں پرانا سا ایمپلی فائر، تاریں ٹیپ سے لپٹی ہوئی۔
ایک شخص فرش پر بیٹھا ہے۔ وہ ڈی جے تو نہیں کہلاتا، وہ بس گانا لگانے والا ہے۔ اس کا ہاتھ والیوم کی نوب پر ہے اور آنکھیں آسمان کی طرف۔ ساتھ ہی بار بی کیو چل رہا ہے۔ سیخوں پر بوٹیاں، کوئلوں کی سرخی، دھویں کی خوشبو جو ہوا میں تحلیل ہو کر چھت کو دھویں سے بھر رہی ہے۔
درمیان میں دوست احباب کا ہجوم ہے۔ کوئی چائے پکڑے کھڑا ہے، کوئی آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کر رہا ہے، کوئی صرف شور کا حصہ بننے آیا ہے۔
ایک لڑکا چرخّی تھامے کھڑا ہے۔ ڈور اس کی انگلیوں سے پھسلتی ہوئی آواز نکال رہی ہے - سرررررررر- پتنگ ہوا پکڑ چکی ہے۔
اوپر دیکھو تو آسمان نیلا نہیں رہا بلکہ رنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ پیلی، لال، سبز، نیلی پتنگیں، لیکن یہ خوبصورتی دیکھنے والوں کے لیے ہے۔ پتنگ بازوں کے لیے یہ سب شکار ہیں۔ ہر پتنگ ایک ہدف ہے۔ ہر ڈور ایک ہتھیار۔
اچانک کوئی آواز آتی ہے، اوئے اوئے… وہ والی… دائیں والی۔
چرخی والا ہاتھ ڈھیلا کرتا ہے۔ پتنگ کا تاںکا بھڑتا ہے، پھر اچانک ڈور چھوڑ دیتا ہے۔ پتنگ نیچے آتی ہے، پھر جھٹکے سے اوپر جاتی ہے۔ سامنے والی پتنگ کے پیچھے لگ چکی ہے۔ چھت پر خاموشی چھا جاتی ہے اور سب کی نظریں ایک نقطے پر۔
پھرپتنگ کٹتی ہے تو اگلے ہی لمحے 'کآآآآآٹااااااااا' کا شور آتا ہے۔ تالیاں، سیٹیاں بجتی ہیں اور فوراً گانا بدلتا ہے والیوم پورا۔

یہاں سے بسنت صرف پتنگ نہیں رہتی۔ یہاں سے موسیقی شروع ہوتی ہے۔
لاہور میں بسنت کبھی خاموش تہوار نہیں رہی۔ 1950 کی دہائی سے لے کر 2000ء کے اوائل تک، چھتوں پر، ریڈیو پر، فلموں میں بسنت کی اپنی آواز تھی۔ کیوں موسیقی اتنی اہم تھی؟ پتنگ کٹنے کا اعلان، جیت کا جشن، رقص کا بہانہ اور سب سے بڑھ کر اجتماعی خوشی۔
ریڈیو پاکستان، فلمی گانے، بعد میں کیسٹیں اور  سی ڈیز ہر چھت پر موسیقی لازمی جزو تھی۔
بسنت کو اگر صحیح معنوں میں سمجھنا ہو تو پتنگ سے پہلے موسیقی کو سمجھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ بسنت کا تصور شور سے نہیں، سُر سے پیدا ہوا۔
برصغیر کی کلاسیکی موسیقی میں صدیوں سے یہ اصول رہا ہے کہ ہر موسم کا اپنا راگ ہوتا ہے ، جیسے راگ بسنت جو راگ بہار کے آغاز پر گایا جاتا تھا۔ اس میں شوخی ہے، چنچل پن ہے، اور ایک عجیب سی بے قراری ہے۔
اسی طرح راگ بہار ایک مکمل کھلاؤ کا راگ ہے۔ جیسے پھول پوری طرح کھل جائیں، ویسے ہی سر پھیلتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب فلمی، لوک اور پاپ موسیقی بنی تو بسنت کے گانوں میں یہ راگ لاشعوری طور پر زندہ رہے۔
اب آتے ہیں اصل گانوں کی طرف جو واقعی بسنت پر بجتے تھے۔
گُڈی وانگو ساجنا، مینو اُڑائی جا اُڑائی جا
یہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے ہٹ ترین آئٹم سانگز میں سے ایک تھا۔ یہ گانا معروف فلم ڈنکا میں شامل ہے جس کے موسیقار وجاہت عطرے ہیں، شاعری خواجہ پرویز نے لکھی اور گلوکارہ افشاں بی بی نے اس کو اپنی آواز دی۔
یہ گانا بسنت کی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ یہ کلاسیکی، لوک اور آئٹم سانگ، تینوں چیزیں ایک ساتھ ہے۔ گُڈی یعنی پتنگ، اور خاتون کو خود پتنگ بنا دینا،  یہ استعارہ بسنت کے لیے سب سے طاقتور علامت بن گیا۔
افشاں بی بی کا تعلق قصور سے تھا۔ یہی قصور جس نے ہمیں نورجہاں دیں۔ پھر اسی تسلسل میں ازرا جہاں، صائمہ جہاں، نادیہ جہاں اور آج دیبا جہاں جو ازرا جہاں کی صاحبزادی ہیں۔
یہ صرف نام نہیں یہ قصور کی موسیقی کی زنجیر ہے۔
میں بن پتنگ اُڑ جاؤں گی
 
یہ گیت سنہ 1952 کی فلم دوپٹہ میں شامل کیا گیا تھا اور اسے گلوکارہ نورجہاں نے گایا تھا۔
یہ گانا ڈنکا سے بہت پہلے کا ہے اور یہی اصل بات ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب بسنت ابھی شور نہیں بنی تھی، بلکہ احساس تھی۔
نورجہاں نے یہاں خاتون کو شور مچاتی ہوئی پتنگ نہیں بلکہ خاموشی سے اڑتی ہوئی خواہش بنایا۔ یہ گانا ریڈیو پاکستان پر ہر بسنت کے دن بجتا تھا۔
پتنگ باز سجنا
بسنت کی روح پر مشتمل پرانے گانے شاید ہی آج کی نسل نے سنے ہوں مگر 90 کی دہائی کا ایک ایسا گانا بھی تھا جو آج تک بسنت کے گانوں میں سے ایک ہے اور وہ ہے پتنگ باز سجنا۔ اس گانے کو فریحہ پرویز نے گایا ہے۔ یہ وہ گانا ہے جس نے بسنت کو نئی نسل تک پہنچایا۔ 90 کی دہائی میں جب بسنت کمرشل ہو رہی تھی یہ گانا بسنت کا قومی ترانہ بن گیا۔
اس گانے میں لوک موسیقی کی خوشبو، پاپ کی رفتار اور پتنگ کی شوخی سب کچھ تھا۔
ابرار الحق کے گیت
بسنت کے سنہری دور کا ذکر کیا جائے تو پاکستانی گلوکار ابرار الحق سرفہرست ناموں میں سے ایک ہوں گے۔ ان کے گانے جیسے نچ پنجابن، بلو دے گھر، میلہ ویکھن آیاں کڑیاں لاہور دیاں، چریاں دا دل چیر دے، نچ لین دے اور دیگر ہمیشہ بسنت کے تہوار پر لاؤڈ سپیکرز پر بجتے رہے ہیں۔
یہ براہِ راست بسنت کے گانے تو نہیں لیکن لاہور کی کوئی بسنت ابرار الحق کے بغیر مکمل نہیں تھی۔ ان کے کنسرٹس بسنت کا لازمی جز تھے۔
لاہور لاہور اے 
لاہور کی بسنت ہو اور لاہور پر بنایا گیا گانا کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ طارق طافو کا گایا ہوا گانا لاہور لاہور اے کئی سال سے لاہوریوں کی پسند رہا ہے اور بسنت پر ہر سپیکر پر کبھی نہ کبھی ضرور بجتا رہا ہے۔
ساڈے دل تے چھریاں چلایاں
اس گانے کا ذکر یہاں کرنا اہم ایسے ہوا کہ آپ نے ایک وائرل ویڈیو دیکھی ہوگی جو پاکستان کی ہے اور غالبا یہ 90 کی دہائی کے آخر میں بنائی گئی ہے۔
اس ویڈیو میں کیمرے کی کوالٹی تو پرانی ہے مگر یادیں جیسے بہت ہی گہری ہیں۔ نوجوان دوست معروف انڈین گلوکار دلیر مہندی کے گانے ساڈے دل تے چھریاں چلایاں پر رقص کر رہے ہیں۔
یہ گانا 1997 میں ریلیز ہوا تھا اور اس وقت بسنت کے تہوار پر رقص کرنے کے لیے بہت مقبول ہوا۔
جان دیو، سانوں گڈیاں اڑان دیو
 
یہ گانا سنہ 2000 کے اوائل میں بسنت پر چلنے والے مقبول ترین گانوں میں سے ایک تھا جسے معروف گلوکار ملکو نے گایا ہے۔
تک لین دے
یہ بھی وہ گانا ہے جو تاریخ میں جیسے کھو سا گیا ہو مگر جب بھی سنائی دے تو بسنت کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
گڈی وی اڑانی اے
آپ نے حالیہ وقت میں پاکستانی شخصیت فخر عالم کو ٹی وی شو ہوسٹ کرتے تو دیکھا ہو گا مگر ان کا یہ گانا اکھ وی لڑانی اے تو گڈی وی اڑانی اے بسنت کے دنوں کی یاد دلاتا ہے۔

لاہور میں بسنت کی ٹائم لائن - تصویروں میں


لاہور 2001


لاہور 2002


لاہور 2003


لاہور 2003


لاہور 2003


لاہور 2004


لاہور 2005


لاہور 2005


لاہور 2005


لاہور 2007


لاہور 2007

 

شیئر: