Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کے فارمولے سے یمن کو امن کا حقیقی موقع ملا ہے

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے ہم چاہتے ہیں بندوقیں مکمل خاموش ہو جائیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عدن میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت اور صنعا پر قابض ایرانی کی حمایت یافتہ ملیشیا کے درمیان یمن میں جاری جنگ کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق 2014 میں جنگ کے آغاز سے ہی ریاض میں موجود حکام سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر جاری بحران، جس نے شہریوں، کمرشل جہاز رانی اور تیل تنصیبات کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے، کے غیر فوجی حل کی تلاش میں ہیں۔
لیکن ایران جس نے اپنے علاقائی مقاصد حاصل کرنے کی حوثیوں جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے کو بطور پراکسی استعمال کیا ہے۔ اس وجہ سے یمن میں چھ سال سے جنگ جاری ہے، جس سے اب تک ایک لاکھ 12 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دو کروڑ 40لاکھ افراد فوری امداد کے منتظر ہیں۔
یمن بحران کے خاتمے کے حوالے سے گذشتہ روز پیر کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے نئی پینشکش کا اعلان کرتے ہوئے جس میں سیز فائز، معاشی مراعات اور انسانی تعاون شامل ہیں کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ بندوقیں مکمل خاموش ہو جائیں۔‘
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ یمن کو محفوظ بنانے کا سیاسی حل ہے۔ اب اس کا فیصلہ حوثیوں نے کرنا ہے کہ کیا وہ یمن کے مفاد کو پہلے رکھے گے یا ایرانیوں کے؟
اس تنازع کے بیچ 2011 میں بوئے گئے تھے جب یمن میں جاری پرامن مظاہرے پھیل گئے اور دو کروڑ 30 لاکھ آبادی کا ملک تباہی کی جانب لڑکھنا شروع ہو گیا۔
خیلج تعاون کونسل ثالثی کے لیے آگے بڑھا۔ اس سال نومبر میں اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح نے ریاض میں جی سی سی کی ایک میٹنگ میں انتخابات کے انعقاد تک نائب صدر عبد ربہ منصور حادی کو اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے۔
دسمبر 2012 میں نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس (این ڈی سی) میں سیٹیں مختص کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا گیا اور اپریل 2013 میں این ڈی سی نے پورے یمن میں سے 565 سیاسی وفد جمع کیے۔

حوثیوں نے علی عبداللہ صالح کی مدد سے 21 ستمبر 2014 کو دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ستمبر 2014 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں استحکام کے لیے امن اور قومی شراکت کے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
اور جب یہ لگ رہا تھا کہ تنازع ختم ہو گیا ہے، حوثیوں نے علی عبداللہ صالح کی مدد سے 21 ستمبر 2014 کو دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔
اس سے اگلے سال جنوری میں حوثیوں نے عبد ربہ منصور حادی کو مستعفیٰ ہونے پر مجبور کیا اور گھر پر نظر بند کر دیا۔ اسی مہینے وہ فرار ہو کر عدن پہنچ گئے اور حوثیوں کے مقابلے کا اعلان کیا۔
لیکن مارچ میں حوثیوں نے عدن کی جانب بڑھنا شروع کر دیا جس ہر یمنی حکومت نے مجوبر ہو کر عالمی برادری کی مدد طلب کی۔
جس پر سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد نے علاقائی اور عالمی مدد سے حوثیوں کے مورچوں پر فضائی بمباری کی اور ان کی پیش قدمی کو روکا۔
اپریل میں سلامتی کونسل نے ایک قرار دار 2216 منظور کرتے ہوئے حوثیوں سے صنعا سے انخلا، غیر مسلح ہونے اور یمنی حکومت کو دوبارہ صنعا آنے کا مطالبہ کیا۔

یمن جنگ نے انسانی بحران پیدا کیا ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی اور ان کے رہنما بھی پابندیوں کی زد میں آ گئے۔
اب ایک بار پھر مملکت نے دشمنیوں کو ختم کرنے اور شہریوں کی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے ’یمن امن منصوبے‘ کا اعلان کیا ہے۔ جس میں حوثیوں کی جانب سے پیشکش کو قبول کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مکمل جنگ بندی کا آغاز کیا جائے گا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق ’یہ ایک ایسی پیشکش ہے جو حوثیوں کو خونریزی کے خاتمے کا موقع فراہم کرتی ہے۔‘
‘اگر وہ اس کو قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘
امن منصوبے کے حوالے سے سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ’مملکت نے (تنازعات) کے حل اور جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی لیکن حوثیوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔‘

شیئر: