Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستانی موقف کی مکمل حمایت کی‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے اس موقف کی مکمل حمایت کی ہے کہ اس نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف نے 2018 سے پاکستان کو دہشت گردی کی مالی اعانت پر ناکافی کنٹرول رکھنے والے ممالک کی گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔ جس نے غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے محتاط کر دیا تھا۔
رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے کہا تھا کہ اسلام آباد نے ’نمایاں پیشرفت‘ کی ہے لیکن منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت روکنے کے طریقہ کار میں ’سنگین خامیاں‘ باقی ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ 27 میں سے تین ایکشن پوائنٹس پر اب بھی کام کی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا گذشتہ روز ایک مقامی نیوز چینل کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف پر ہماری مکمل حمایت کی۔ مجموعی طور پر وہ ہمارے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس میں ریاض پاکستان کے حق میں ووٹ دے گا۔ (فوٹو: روئٹرز)

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جب بھی ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس ہو گا، ریاض پاکستان کے حق میں ووٹ دے گا۔
انہوں نے پاک سعودی عرب تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات حقیقت سے بالکل برعکس تھی کہ ہم سعودی عرب سے دور جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہر ملک کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے ہم نے انہیں واضح طور پر بتایا تھا کہ آپ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اور ہیں۔ کوئی تیسرا ملک اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ ایک روحانی قلبی، لگاؤ تھا، ہے اور رہے گا۔
انہوں نے او آئی سی کے متبادل پلیٹ فارم کے حوالے سے کہا کہ ’ایک تاثر ابھارنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ او آئی سی کا کوئی متبادل پلیٹ فارم بنایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی اور وقت نے یہ ثابت بھی کر دیا۔‘
سعودی عرب، ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ تعلقات میں توازن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے مسلم امہ کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور یہ سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کشمیر پر اپنے تاریخی نقطہ نظر پر قائم ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ایک ملک کے ساتھ تعلقات ہیں تو ہم دوسرے ملک سے لاتعلق ہو جائے۔ ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات کی اپنی ایک تاریخ ہے، اپنی نوعیت ہے۔ قطر کے ساتھ اپنے تعلقات رہے ہیں آج بھی وہاں کافی پاکستانی ہیں جو اپنے روزگار کے لیے وہاں موجود ہیں اور ان کے معاشرے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات کی بحالی کے حوالے سے کہا کہ ہماری خواہش تھی وہ پوری ہو گئی۔ جو جی سی سی میں تھوڑا سا کھنچاؤ دکھائی دے رہا تھا وہ اب دفن ہو گیا۔ ’آپ نے دیکھا کہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں اور وہ جو ناکہ بندی تھی وہ بھی ختم ہوئی اور سفارتی تعلقات بھی بحال ہو گئے۔‘
مسئلہ کشمیر پر سعودی موقف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’کشمیر کے مسئلے پر ابھی جو نیامی میں قراردار آئی اور 47 ویں کونسل آف وزرائے خارجہ تھی، اس میں سعودی وزیر خارجہ کے بیان میں بڑ واضح موقف تھا۔ سعودی عرب کشمیر پر اپنے تاریخی نقطہ نظر پر قائم ہے۔‘
’وہ اس سے ہٹے نہیں ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ ہمارے نقطہ نظر کو سمجھتے بھی ہیں اور ہماری عوام نے ان سے جو توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ مجھے امید ہے وہ انہیں مایوس نہیں کریں گے۔‘

شیئر: