Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی شام میں کرد علاقوں کے خلاف شامی فوج کی پیش قدمی جاری، امریکہ کی روکنے کی اپیل نظرانداز

انتظامیہ کی جانب سے ان سٹریٹیجک مقامات کے نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
شامی فوج نے امریکہ کی جانب سے پیش قدمی روکنے کی اپیل کے باوجود سنیچر کو کردوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ شامی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے شمالی شہر طبقا اور اس سے ملحقہ ڈیم پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ الرقہ کے مغرب میں واقع اہم فریڈم ڈیم (سابقہ بعث ڈیم) بھی فوج کے قبضے میں آ چکا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کرد انتظامیہ کی جانب سے ان سٹریٹیجک مقامات کے نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ آیا جھڑپیں اب بھی جاری ہیں یا نہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے شامی فوج فرات دریا کے مغرب میں واقع دیہات کے گرد جمع تھی اور کردوں کی قیادت میں قائم شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) سے مطالبہ کر رہی تھی کہ وہ دریا کے مشرقی کنارے پر اپنی تعیناتی کریں۔ دونوں فریقین کے درمیان اس دوران اہم چیک پوائنٹس اور تیل کے کنوؤں پر جھڑپیں ہوتی رہیں۔
سنیچر کی علی الصبح ایس ڈی ایف نے خیرسگالی کے طور پر مذکورہ علاقوں سے انخلاء کیا، تاہم بعد ازاں الزام عائد کیا کہ شامی فوج نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید مشرق کی جانب ان شہروں اور تیل کے مقامات تک پیش قدمی کی جو معاہدے میں شامل نہیں تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر نے ایک تحریری بیان میں شامی فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ حلب اور طبقا کے درمیان علاقوں میں تمام جارحانہ کارروائیاں بند کرے۔
دیر حافر اور ملحقہ دیہات جہاں آبادی کی اکثریت عربوں پر مشتمل ہے، وہاں شامی فوج کے داخلے پر مقامی باشندوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ایک مقامی شہری حسین الخلف نے کہا کہ ملک میں مزید خون خرابے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ تشدد نے شامی حکومت اور کرد انتظامیہ کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ امریکہ کو بھی اپنی شام پالیسی میں توازن قائم کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش ہے۔

 

شیئر: