Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پارلیمنٹ میں کسی کو ریاست، عدلیہ اور فوج مخالف بات کرنے نہیں دوں گا: سپیکر ایاز صادق

محمود خان اچکزئی کے بطور قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کا نوٹیفیکیشن 16 جنوری کو ہوا (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ’کسی کو بھی پارلیمنٹ میں ریاست ، عدلیہ اور فوج مخالف بات کرنے نہیں دوں گا۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق ایاز صادق نے سنیچر کو نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور کے دورے کے موقعے پر کہا کہ ’ کوئی بھی ججز کے کردار پر بات کرے گا تو اجازت نہیں ملے گی، یہ چیزیں آئین میں ہیں اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں نے پارلیمان کس طرح چلانا ہے۔‘
سپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ’محمود خان اچکزئی ہوں یا کوئی اور میرے لیے وہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ جو بھی پاکستان مخالف بات کرے گا میں اسے روکوں گا۔‘
 انہوں نے کہا کہ ’کہیں نہیں لکھا کہ قائد حزب اختلاف جب بھی کھڑے ہوں تو انہیں بات کرنے کا موقع دیا جائے، اگر وہ ٹھیک بات کریں گے تو ان کو موقع ملتا رہے گا اور یہ روایت بھی ہے لیکن یہ آئین میں ہے اور نہ ہی قواعد میں۔‘
’اپوزیشن حکومت کا محاسبہ کرے،کمیٹیوں میں آئیں، اپنا کام کریں جس کے کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ایک اور سوال کے جواب میں سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت کرتا ہوں لیکن وہ کسی کام سے مجھے روکتے نہیں، مشاورت جتنے زیادہ لوگوں سے ہو وہ بہتر ہے۔‘
قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکیشن میں تاخیر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ معاملہ عدالت میں تھا۔ ’جیسے ہی کیس واپس لیا گیا ہم نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی تاریخ میں کبھی اتنی اچھی نہیں تھی، جتنی آج ہے۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ چین، روس اور سعودی عرب سے بھی دوستی ہے، وہ ملک بتائیں جس سے ہماری دوستی نہیں ہے۔‘
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 16 جنوری کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کے 9 مئی کے مقدمات میں نااہل ہونے سے خالی ہوا تھا۔
گزشتہ برس چھ اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نو مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے نو اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

 

شیئر: