پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو انڈین ویزوں کا اجرا تعطل کا شکار، آئی سی سی کی مداخلت
اتوار 18 جنوری 2026 15:44
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
انگلش کرکٹر عادل رشید کا آبائی تعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور سے ہے (فوٹو: گیٹی)
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں اور آفیشلز کو انڈین ویزوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق آئی سی سی نے انڈیا اور سری لنکا میں شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل پاکستانی نژاد کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ویزوں کے معاملے کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی تقریباً 42 ایسے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ویزا معاملات میں سہولت فراہم کر رہی ہے جو پاکستانی شہریت رکھتے ہیں یا پاکستانی نژاد ہیں اور مختلف بین الاقوامی ٹیموں کا حصہ ہیں۔ کئی فُل ممبر اور ایسوسی ایٹ ممالک کی ٹیموں میں پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل ہیں۔
انگلینڈ کی ٹیم میں عادل رشید، ریحان احمد اور فاسٹ بولر ثاقب محمود شامل ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے علی خان اور شایان جہانگیر سکواڈ کا حصہ ہیں۔ نیدرلینڈز کی ٹیم میں ذوالفقار ثاقب شامل ہیں۔ اسی طرح سے کینیڈا کی ٹیم کے سٹاف ممبر شاہ سلیم ظفر بھی پاکستانی نژاد ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے تینوں کھلاڑیوں کے ویزے منظور ہو چکے ہیں جبکہ نیدرلینڈز کے سکواڈ کو بھی انڈین ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔ آئی سی سی حکام انڈین ہائی کمیشنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر یا آخری وقت میں مسائل سے بچا جا سکے۔
آئی سی سی کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ٹیم کے پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو انڈین ویزے کے حصول میں مسائل کا سامنا تھا۔ ان کھلاڑیوں میں علی خان، شایان جہانگیر، محمد محسن اور احسان عادل شامل تھے۔
ان کھلاڑیوں کے متعلق یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ ان کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں تاہم بعد میں واضح کیا گیا تھا کہ درخواستیں زیرِ غور ہیں اور مسترد نہیں ہوئیں۔ انڈیا اور پاکستان کی کشیدگی کو اس کی وجہ سمجھا جا رہا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی جبکہ بنگلہ دیش کے بھی وینیو کے متعلق تحفظات سامنے آچکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے انڈیا جا کر ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے کے متعلق جلد پیش رفت متوقع ہے۔
