کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی سے 1200 دکانیں خاکستر، وزیراعلٰی سندھ کا تحقیقات کا حکم
کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی سے 1200 دکانیں خاکستر، وزیراعلٰی سندھ کا تحقیقات کا حکم
اتوار 18 جنوری 2026 14:45
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو گل پلازہ میں آتشزدگی کے بارے میں کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس کے مطابق عمارت میں 1200 سے زائد دکانیں جل گئی ہیں۔
اتوار کو کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ رات 9:45 سے 10:15 بجے کے درمیان پیش آیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ فائر بریگیڈ کی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد قابو پا لیا گیا۔ ’حادثے میں 6 افراد جان سے گئے جبکہ 22 زخمی ہوئے۔‘
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ تمام زخمیوں کو سول ہسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا۔
’آگ بجھانے اور امدادی کارروائیوں میں 22 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل رہیں۔ ریسکیو 1122 کی جانب سے آپریشن میں 33 ایمبولینسز نے بھی حصہ لیا۔
بیان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ آتشزدگی میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔
’وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ سانحے میں بھاری مالی نقصان پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور آگ بجھانے کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔‘
وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر شہریوں کی زندگیاں بچائیں۔
وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ریسکیو اور کولنگ کا عمل مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ تمام زخمیوں کو سول ہسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی
’انتظامیہ اور پولیس آگ کے مکمل خاتمے اور صورتحال کے معمول پر آنے تک کام کرتی رہے۔‘
وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ادارے ہمیشہ الرٹ اور تیار رہیں۔
’سندھ حکومت نے تاجر برادری کو نہ پہلے اکیلا چھوڑا ہے اور نہ اب چھوڑے گی۔‘