Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بل گیٹس کا اعلیٰ درجے کا ایٹمی ری ایکٹر پلانٹ بنانے کا اعلان

بل گیٹس معروف سرمایہ کار وارن بافیٹ کی کمپنی پیسیفک کور کے ساتھ نیٹریم ری ایکٹر کا منصوبہ لانچ کریں گے (فوٹو: اے ایف پی)
دنیا کی امیر ترین شخصیت رہنے والے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی کمپنی نے اپنے پہلے نیٹریم ری ایکٹر منصوبے کے لیے امریکی ریاست وائیومنگ میں ایک کوئلے کے پلانٹ کا انتخاب کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بل گیٹس نے 15 سال پہلے ٹیرا پاور کے نام سے ایک کمپنی بنائی تھی جو معروف امریکی سرمایہ کار وارن بافیٹ کی کمپنی پیسیفک کور کے ساتھ پہلا نیٹریم ری ایکٹر کا منصوبہ لانچ کرنے جا رہی ہے۔
ٹیرا پاور ایل ایل سی اینڈ پیسیفک کور کے مطابق سال کے آخر تک نیٹریم ری ایکٹر پلانٹ کی سائٹ کا اعلان کر دیا جائے گا۔
عام ری ایکٹرز کے مقابلے میں اعلیٰ درجے کے چھوٹے ری ایکٹرز کو چلانے کے لیے مختلف قسم کے ایندھنوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ہوا اور شمسی توانائی کی طرح اعلیٰ درجے کے چھوٹے ری ایکٹرز کا شمار بھی ایسی ٹیکنالوجی میں ہوتا ہے جس کے استعمال میں کاربن کے اخراج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امریکہ کی بیشتر ریاستیں ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والے مواد کے اخراج میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ریاست وائیومنگ کے گورنر مارک گورڈن نے بل گیٹس کے نیٹریم ری ایکٹر منصوبے کے بارے میں کہا ہے کہ ’کوئلے کا استعمال ختم کرنے کے لیے یہ سب سے تیز اور شفاف طریقہ ہے۔‘
وائیومنگ کا شمار سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والی امریکی ریاستوں میں ہوتا ہے۔

شمسی توانائی کی طرح نیوکلیئر پلانٹ سے پیدا ہونے والی توانائی کے ذریعے کاربن کے اخراج پر قابو پایا جا سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ٹیرا پاور کمپنی نے گذشتہ سال کہا تھا کہ ’نیٹریم ری ایکٹر پلانٹ کی تعمیر پر ایک ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے پانچ سو میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔‘
گذشتہ سال امریکی محکمہ توانائی نے ٹیرا پاور کو نیٹریم ٹیکنالوجی کے لیے 80 ملین ڈالر کی رقم دی تھی۔ امریکی کانگریس نے مزید فنڈز کی منظوری دی تو محکمہ توانائی آئندہ بھی بل گیٹس کے اس منصوبے کی مالی معاونت کرے گا۔
ٹیرا پاور کے صدر کرس لیوسک نے کہا ہے کہ ’پلانٹ کے بننے میں تقریباً سات سال لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2030 تک صاف توانائی کی ضرورت ہے۔‘
جوہری توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’عام ری ایکٹرز کے مقابلے میں اعلیٰ درجے کے ری ایکٹرز زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
حالیہ رپورٹ کے مطابق عام ایندھن کے مقابلے میں اعلیٰ درجے کے ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والے ایندھن کی زیادہ رفتار پر افزودگی کی جاتی ہے، ایسا کرنے سے ایندھن کی سپلائی چین ان شدت پسندوں کا نشانہ بن سکتی ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مواقع کی تلاش میں ہیں۔
ٹیرا پاور کے صدر کرس لیوسک کا کہنا ہے کہ ’پلانٹس کی وجہ سے جوہری فضلے کی مقدار میں کمی آئے گی جس سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خدشہ کم ہو سکے گا۔‘

اکثر ممالک توانائی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ریاست وائیومنگ سے سینیٹر جان باراسو کا کہنا ہے کہ ’نیٹریم پلانٹ کے باعث یورینیم کی مائننگ میں بھی اضافہ ہوگا۔‘ ریپبلکن جماعت کے سینیٹر جان باراسو نے سنہ 2019 میں قانون متعارف کروانے میں مدد کی تھی جس سے اعلیٰ درجے کے نیوکلیئر ری ایکٹرز کی لائسنسنگ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

شیئر: