Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بدعنوانی کے مقدمات میں متعدد اعلی عہدیدار گرفتار

جج نے مقدمے کے حوالے سے 2.5 ملین ریال اور فضائی ٹکٹ لیے تھے- (فوٹو اخبار24)
سعودی عرب میں کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن (نزاھۃ) نے بدعنوانی کے پندرہ بڑے مقدمات نمٹا دیے- ان کے تحت اپیل  کورٹ کے 2 جج، ایک عدالت کے سابق سربراہ اور سرحدی محافظوں کے افسران کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ سو ملین ریال منجمد کردیے گئے-  
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن کے عہدیدار نے بتایا کہ زیر حراست افراد سے تحقیقات مکمل کرلی گئی- اس بات کا دھیان رکھا گیا کہ  ملزمان کے اقبالیہ بیان کے بجائے حقائق تک رسائی حاصل کی جائے-  
کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن (نزاھۃ) کےافسران نے تمباکو کنٹینر سعودی عرب لانے والے ایک خلیجی شہری اور 12 مقیم غیرملکیوں کو حراست میں لے لیا-  
نزاھۃ  نے  32 جائیدادوں کی ملکیت ضبط کرنے کے لیے سو ملین ریال کے غیر قانونی معاوضے ادا کرنے پر پابندی لگادی-   
نزاھۃ نے غیر قانونی ملکیتی دستاویزات جاری کرنے والے اپیل کورٹ کے جج کو معطل کردیا جبکہ ملکیتی دستاویزات کے  اجرا میں ملوث سرکاری اداروں کے 12 اہلکاروں کوبھی گرفتار کیا۔ 
جیل کے ایک اکاؤنٹنٹ کو ممنوعہ اشیا  جیل میں لانے کی اجازت دینے کے لیے رشوت لینے پر گرفتار کیا گیا-   
ایک ایسے جج کو بھی گرفتار کیا گیا جس نے  زیر سماعت مقدمات میں مدد کے لیے 2.5 ملین ریال نقد اور فضائی ٹکٹ حاصل کیے تھے-  
ایک یونیورسٹی کے اہلکار کو اپنے رشتہ داروں کی کمپنیوں کو  17 ٹھیکے دلانے پر گرفتار کیا گیا- اپیل کورٹ کے ایک جج کو  1.6 ملین ریال لے کر مطلوبہ فیصلہ  جاری کرنے پر حراست میں لے لیا گیا-  
میونسپلٹی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر کو 2 نامکمل منصوبوں کے حوالے سے  8 لاکھ ریال سے زیادہ کے غبن پر گرفتار کرلیا گیا-  
بندرگاہ کے اہلکار اور دو مقیم غیرملکیوں کو مینٹی نینس کی رپورٹ میں گھپلے بازی پر گرفتار کیا گیا جبکہ رشوت لینے کے جرم میں ایک پولیس افسر کوبھی حراست میں لیا گیا-  
ایک ڈاکٹر کو ایک لاکھ  10 ہزار ریال کی رشوت لے کر غیر قانونی کام انجام دینے پر گرفتار کیا گیا-  
ایک تاجر کو غیر قانونی طریقے  سے سبسڈی حاصل کرنے پر گرفتار کیا گیا-
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: