Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نتن یاہو کی 12 سالہ حکمرانی کا خاتمہ، نفتالی بینٹ وزیراعظم منتخب

سنیچر کی رات کو مظاہرین جشن منانے کے لیے 71 وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیلی پارلیمنٹیرینز اتوار کو نئی اتحادی حکومت کی تشکیل کی منظوری دے دی جس کے ساتھ  وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو 120 ممبران پر مشتمل اسرائیلی پارلیمنٹ کے 60 ممبران نے نفتالی بینٹ کو وزارت عظمیٰ  کے لیے ووٹ دیے جب کہ 59 ووٹ ان کے خلاف پڑے۔ 
ایک ممبر نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ 
اسرائیلی پارلیمنٹ ’نسیٹ‘ کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے شروع ہوا جس سے بینیٹ، لاپید اور نیتن یاہو نے ووٹنگ سے قبل خطاب کیا۔
دائیں بازو کے یہودی قوم پرست نفتالی بینٹ دو سال کے لیے وزیر اعظم رہیں گے جس کے بعد حکومتی اتحاد کے معمار یائر لاپید وزیر اعظم بن جائیں گے۔
پارلیمنٹ میں شکست سے چند لمحے پہلے نیتن یاہو نے کہا کہ ’یہ ہمارا مقدر ہے کہ ہم اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں اور اہم اپنے سر فخر سے بلند کرکے ایسا کریں گے اور اہم اس بری حکومت کو گرائیں گے اور ملک کی دوبارہ قیادت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
خیال رہے رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے نتن یاہو نے اسرائیلی سیاست کو نیا رخ دیا ہے۔
نتن یاہو، جسے ان کے حامی پیار سے ’کنگ بی بی‘ پکارتے ہیں جب کہ ناقدین انہیں ’کرائم منسٹر‘ کہتے ہیں اسرائیلی سیاست کا ایک بااثر مگر تفرقہ انگیز کردار ہیں۔
پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے فوراً بعد نتن یاہو کے مخالفین تل ابیب کے ریبن سکوائر میں جشن منانا شروع کر دیا جنہوں نے ’بائی بائی بی بی‘ کے پلے کارڈر اٹھا رکھے تھے۔
قبل ازیں سنیچر کی رات کو دو ہزار کے قریب مظاہرین نتن یاہو کی ممکنہ روانگی کا جشن منانے کے لیے 71 سالہ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر جمع ہوگئے تھے۔
مظاہرے میں شریک اوفر روبنسکی نامی شخص نے بتایا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ ایک بڑی رات ہے اور کل بھی ایک بڑا دن ہوگا۔ میں تقریباً رونے والا ہوں۔ ہم (نتن یاہو کی روانگی) اس کے لیے پُرامن طریقے سے لڑے ہیں اور اب وہ دن آ گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ تین جون کو حزب اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے درمیان نئی حکومت تشکیل دینے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

 


تین جون کو حزب اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے درمیان نئی حکومت تشکیل دینے کا معاہدہ طے پایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

معاہدے کے تحت یائر لاپید اور ان کے اتحادی  نفتالی بینٹ وزارت عظمی کے عہدے پر باری باری دو دو سال کی مدت کے لیے فائز رہیں گے۔ بینٹ پہلے دو سال جبکہ لاپید آخری دو سال کے لیے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔
تاریخی معاہدے میں ایک چھوٹی اسلامی جماعت دی یونائٹڈ عرب بھی شامل ہے جو مخلوط حکومت کی تشکیل کی حمایت کرنے والی پہلی عرب پارٹی ہے۔
جمعے کو دائیں بازو کی یامینا پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اور اسے اسرائیلی پارلیمنٹ ’نسیٹ‘ کے سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا ہے جس کے بارے میں نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اس سے ’سیاسی بحران‘ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
بینیٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ساتھ مل کر کام کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے۔‘

وزیراعظم نیتن یاہو نے نئی حکومت کے اتحاد کو اسرائیل کی ’تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ‘ قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

یتن یاہو نے اس نئی حکومت کے اتحاد کو اسرائیل کی ’تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ‘ قرار دیا تھا۔ اسرائیل کے صدر رووین ریولین نے پانچ مئی کو حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپید کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔
اس سے قبل بنیامین نتن یاہو کو مخلوط حکومت بنانے کے لیے 28 روز کی مہلت دی گئی تھی تاہم وہ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

شیئر: