ایتھوپیا میں خاتون کے ہاں بیک وقت پانچ بچوں کی پیدائش، ’پورا گاؤں مجھ پر سوالات اٹھا رہا تھا‘
ایتھوپیا میں خاتون کے ہاں بیک وقت پانچ بچوں کی پیدائش، ’پورا گاؤں مجھ پر سوالات اٹھا رہا تھا‘
جمعہ 8 مئی 2026 18:23
بدریہ آدم نے بتایا کہ میں نے اللہ سے صرف ایک بچے کے لیے دعا مانگی تھی (فوٹو: حیوۃ ہسپتال ایتھوپیا)
ایتھوپیا کی ریاست ہرار میں ایک خاتون کے ہاں 12 برس کے بعد بیک وقت پانچ بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق 35 برس کی بدریہ آدم کی 12 سال تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور اب ان کا کہنا ہے کہ میں اور میرے شوہر بیک پانچ بچوں کی پیدائش پر بہت خوش ہیں۔
حیوۃ فانا انٹرنیشنل ہسپتال ہرار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدریہ آدم کے پانچ بچوں سے ایک لڑکی جبکہ باقی چار لڑکے ہیں اور سب مکمل طور پر صحت مند ہیں۔
بچوں کی والدہ کا کہنا ہے کہ میں اپنی خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی، کیونکہ اس سے قبل اولاد نہ ہونے پر میں ڈپریشن اور تکلیف کا شکار تھی۔
ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد نُور عبدالحئی کے مطابق ماں اور بچے ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔ بچوں کا وزن 1 کلو 300 گرام سے 1 کلو 400 گرام کے درمیان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جن نوزائیدہ بچوں کا وزن ایک کلوگرام سے زائد ہوتا ہے ان کے زندہ رہنے اور صحت مند نشوونما کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کا مزید کہنا ہے کہ بدریہ آدم قدرتی طور پر حاملہ ہوئی تھیں، اور دنیا بھر میں 5 کروڑ 50 لاکھ خواتین میں سے صرف ایک خاتون کے ہاں بیک وقت پانچ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔
انہوں یہ بھی بتایا کہ ان بچوں کی ڈیلیوری منگل کی شام کو حیوۃ فانا انٹرنیشنل ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے ہوئی۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچوں کی ڈیلیوری آپریشن کے ذریعے ہوئی اور وہ تمام صحت مند ہیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پہلے بتایا گیا کہ میں چار بچوں کی ماں بننے والی ہوں، تاہم بعد میں مجھے علم ہوا کہ میں نے پانچ بچوں کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے صرف ایک بچے کے لیے دعا مانگی تھی، اور اللہ نے مجھے پانچ بچوں کی خوشی عطا کی ہے۔
بدریہ آدم کے مطابق ان کے شوہر نے دوسری شادی بھی کی ہے جس سے اُن کا ایک بچہ ہے اور وہ اُن کے ساتھ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے شوہر کہتے تھے کہ ہمارا ایک بچہ اور ہو تو کافی ہے اور مجھے اس بارے میں فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔
ایتھوپیئن خاتون نے بتایا کہ درحقیقت اندر سے میں نفسیاتی اور جذباتی طور پر تکلیف میں مبتلا تھی، کیونکہ پورا گاؤں بچہ پیدا کرنے کی میری صلاحیت پر سوالات اٹھا رہا تھا۔