قطری وزیراعظم سے امریکہ کے نائب صدر کی ملاقات، ایران کے ساتھ مذاکرات پر تبادلہ خیال
قطری وزیراعظم سے امریکہ کے نائب صدر کی ملاقات، ایران کے ساتھ مذاکرات پر تبادلہ خیال
جمعہ 8 مئی 2026 20:13
قطری وزیراعظم اور امریکی نائب صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور گیس کی ترسیل پر بات کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے کو واشنگٹن میں قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے ملاقات کی جس میں دیگر موضوعات کے علاوہ ایران کے ساتھ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ جے ڈی وینس اور شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کی ملاقات میں امریکہ قطر تعلقات اور ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ بات چیت میں آبنائے ہُرمز کی بندش سے قطر کی بیرونِ ملک گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا معاملہ بھی زیرِغور آیا۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی جمعے کو واشنگٹن پہنچے تھے۔ رواں ہفتے کے شروع میں انہوں نے کہا تھا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی ڈیل پر پہنچ جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کو جمعہ کے روز ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دی گئی امریکی تجویز پر جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔
مارکو روبیو نے جمعے کو روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا جواب ہوگا جو ہمیں سنجیدہ مذاکرات کے عمل کی طرف لے جائے گا۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہمیں آج کچھ نہ کچھ معلوم ہو جانا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیش کش ہوگی۔ واقعی مجھے یہی امید ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران نے آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس وصولی کے لیے سرکاری ادارہ قائم کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’کیا دنیا یہ قبول کرے گی کہ اب ایران ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرے؟‘
ایران اور امریکہ کے درمیان 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی تاحال بڑی حد تک برقرار ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے وزیر خارجہ نے ایران کو خطے میں امریکی بحری اثاثوں پر حملوں سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہُرمز میں اپنے تین بحری جہازوں پر حملے ناکام بنائے۔
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو ’انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔‘
اُدھر متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کی صبح ملک کے فضائی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملے کو روکنے کے لیے ’فعال طور پر کارروائی‘ کی، جبکہ ایران جنگ میں جاری نازک جنگ بندی پر دوبارہ دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ تازہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف امریکہ ار ایران کی افواج میں کچھ جھڑپیں ہوئی ہیں جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی تاحال بڑی حد تک برقرار ہے۔