Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریلائنس انڈسٹریز کو رواں سال سعودی آرامکو کے ساتھ معاہدے کی امید

ریلائنس انڈسٹریز 10.10 بلین ڈالر توانائی کے نئے کاروبار میں لگائے گی۔(فائل فوٹو اے ایف پی)
ریلائنس انڈسٹریز نے کہا ہے کہ اسے رواں سال سعودی آرامکو کے ساتھ شراکت کو باضابطہ بنانے کی امید ہے اور اس کے چیئرمین یاسرالرمیان انڈیپنڈینٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے انڈین بورڈ میں شامل ہوں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے شیئر ہولڈرز کو بتایا کہ یاسر الرمیان کا ہمارے بورڈ میں شامل ہونا ریلائنس کے بین الاقوامی ہونے کی شروعات بھی ہے۔‘
ریلائنس نے تیل برآمد کرنے والی دنیا کی سرفہرست کمپنی آرامکو کو کو 2019 میں اپنے تیل سے کیمیکلز کے کاروبار میں 20 فیصد حصص کو 15 بلین ڈالر میں فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم کورونا کی عالمی وبا اور تیل کی قیمتوں گرنے کے باعث گذشتہ سال یہ معاہدہ رک گیا تھا۔
ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ریلائنس انڈسٹریز اگلے تین سالوں میں 750 بلین انڈین روپے (10.10 بلین ڈالر) توانائی کے نئے کاروبار میں لگائے گی۔
مکیش امبانی نے بتایا کہ ریلائنس شمسی مینوفیکچرنگ یونٹ، توانائی ذخیرہ کرنے کی بیٹری فیکٹری، فیول سیل میکنگ فیکٹری اور ایک الیکٹروائزر یونٹ بزنس کے ایک حصے کے طور پر گرین ہائیڈروجن تیار کرے گی۔
انہوں نے اپنے شیئر ہولڈرز کو بتایا کہ اس نئے کاروبار کے ایک حصے کے طور پر جسے دھرو بھائی امبانی گرین انرجی گیگا کمپلیکس کہا جاتا ہے لائنس 2030 تک کم از کم 100 گیگاواٹ کی شمسی صلاحیتیں بھی تیار کرے گی۔
اس سے 2030 تک 450 گیگاواٹ بجلی کی تنصیب کا انڈیا کی قابل تجدید توانائی کا پانچواں حصہ ہو گا۔
انڈیا چاہتا ہے کہ گرین انرجی کے ذرائع اس دہائی کے آخر تک 40 فیصد بجلی پیدا کریں۔

شیئر: