Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہریوں کو مفت پلاٹ، مکان بنانے کے لیے پانچ لاکھ ریال تک کا قرضہ

2020 میں تین لاکھ 34 ہزار نئے مکانات تیار ہوئے۔ (فوٹو اخبار 24)
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں 2020 کے دوران رہاائشی یونٹس کے مالکان کی تعداد بڑھی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق عالمی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے مکانات کی ملکیت کی شرح 62 فیصد تک پہنچانے کے لیے متعدد پروگرام اور سکیمیں شروع کی ہیں۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے باعث 2020 میں تین لاکھ 34 ہزار نئے مکانات تیار ہوئے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے 2020 کے دوران مکانات بنانے کے لیے 2 لاکھ 66 ہزار قرضے جاری کیے جبکہ دوسری جانب شہریوں کو مفت پلاٹ بھی فراہم کیے۔ 5 لاکھ  ریال تک کا قرضہ مکان بنانے کے لیے دیا گیا۔ 
سعودی حکومت ’سکنی‘ کے نام سے رہائشی سکیم نافذ کیے ہوئے ہے۔ اس کے تحت امیدوار کی آمدنی اور اس کے خاندان کے افراد کی تعداد کو سامنے رکھ کر مکان قرضہ یا پلاٹ یا تیار شدہ مکان فراہم کیا جا رہا ہے۔ 
سعودی حکومت انتہائی محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے مکان فنڈ کا ضمانتی پروگرام بھی جاری کیے ہوئے ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق 2020 کے دوران مکانات کی فنڈنگ کے تحت 136 ارب ریال فراہم کیے گئے۔ 
سرکاری مکان پروگرام کے تحت دیے جانے والے قرضے بیان کی گئی رقم کا  96 فیصد ہیں۔ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران بینک کریڈٹ کے تحت جتنی رقمیں جاری کی ہیں ان میں سے 18 فیصد کا تعلق مکان قرضہ سکیم سے ہے۔ 

شیئر: