Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ناکہ بندی برقرار رہی تو آبنائے ہرمز کو پھر بند کیا جا سکتا ہے: ایران کی دھمکی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلنے کا خیرمقدم کیا تھا مگر ساتھ ہی کہا تھا کہ ’ایرانی جہازوں پر پابندی‘ برقرار رہے گی (فوٹو: روئٹرز)
ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر سکتا ہے حالانکہ تہران نے لڑائی کے باعث کئی روز کی رکاوٹ کے بعد اس اہم راستے دوبارہ کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں جاری رہیں تو صورت حال جوابی اقدام کی طرف جائے گی۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ناکہ بندی کا تسلسل رہا تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔ ‘
ان کے مطابق ’آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت کا انحصار ایران کی اجازت پر ہو سکتا ہے۔‘
محمد باقر قالیباف نے ایکس پر چند نکات میں لکھا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے اور وہ ساتوں جھوٹے تھے۔ ایسے جھوٹ کے سہارے وہ جنگ نہیں جیت سکے اور یقیناً مذاکرات سے بھی ان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ناکہ بندی کے تسلسل کے ساتھ آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز سے آمد و رفت مقرر کردہ راستوں اور ایران کی اجازت کی بنیاد پر ہو گی۔ آبنائے کا کھلا یا بند ہونا اور اس سے متعلق قوانین کا فیصلہ میدان کرے گا سوشل میڈیا نہیں۔‘
 ان کا یہ انتباہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے ایک روز بعد آیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم ساتھ ہی اشارہ دیا تھا کہ جہاز ایرانی حکام کے طے شدہ راستوں پر سفر کریں گے اور کہا کہ ایران اس سفر کی نگرانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آبی گزر گاہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی 10 جنگ بندی کے کھولی گئی ہے، اس سے قبل امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھی یہ کھل نہیں پائی تھی اور ایران کا اصرار تھا کہ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا جائے۔
اعلان کے بعد سے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جہازوں کی نقل و حرکت ان راہداریوں تک محدود رہی جن کے لیے ایران کی منظوری درکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبی گزرگاہ کے کھلنے کا خیرمقدم کیا مگر جلد ہی اس بات پر زور دیا کہ ایرانی جہازوں پر امریکہ کی جانبدی ’مکمل طور پر برقرار رہے گی‘ جب تک کہ تہران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام سمیت دوسرے معاملات پر جامع معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

 

شیئر: