ایران نے آبنائے ہرمز پِھر بند کر دی، امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
ایران نے آبنائے ہرمز پِھر بند کر دی، امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
ہفتہ 18 اپریل 2026 5:30
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلنے کا خیرمقدم کیا تھا مگر ساتھ ہی کہا تھا کہ ’ایرانی جہازوں پر پابندی‘ برقرار رہے گی (فوٹو: روئٹرز)
ایران نے سنیچر کو آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ایک بار پھر بندشیں لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کا یہ اقدام امریکہ کی جانب سے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے سنیچر کو کہا کہ ’آبنائے ہرمز واپس سابقہ حالت اور مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں چلی گئی ہے۔‘
فوجی کمان کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی نافذ رہے گی تب تک آبی گزرگاہ کو بند رکھا جائے گا۔
اس سے تھوڑی دیر قبل ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔
ایران نے چند گھنٹے قبل اشارہ دیا تھا کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر سکتا ہے جس کو اس نے جنگ کے باعث کئی روز کی بندش کے بعد جمعے کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
محمد باقر قالیباف نے ایکس پر چند نکات کی شکل میں پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ کے صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے اور وہ تمام جھوٹے تھے۔ ایسے جھوٹ کے سہارے وہ جنگ نہیں جیت سکے اور یقیناً مذاکرات سے بھی ان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ناکہ بندی کے تسلسل کے ساتھ آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز سے آمد و رفت مقرر کردہ راستوں اور ایران کی اجازت کی بنیاد پر ہو گی۔ آبنائے کا کھلا یا بند ہونا اور اس سے متعلق قوانین کا فیصلہ میدان کرے گا، سوشل میڈیا نہیں۔‘ ان کا یہ انتباہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کے ایک روز بعد آیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم ساتھ ہی اشارہ دیا تھا کہ جہاز ایرانی حکام کے طے شدہ راستوں پر سفر کریں گے۔
آبی گزر گاہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی 10 روزہ جنگ بندی کے بعد کھولی گئی تھی، اس سے قبل امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھی یہ کھل نہیں پائی تھی اور ایران کا اصرار تھا کہ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبی گزرگاہ کے کھلنے کا خیرمقدم کیا تھا تاہم جلد ہی اس بات پر زور دیا کہ ایرانی جہازوں پر امریکہ کی جانبدی ’مکمل طور پر برقرار رہے گی‘ جب تک کہ تہران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام سمیت دوسرے معاملات پر جامع معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے غیریقینی کی صورت حال نے توانائی کی عالمی مارکیٹس میں مزید خدشات کا جنم دیا ہے حالانکہ سفارتی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پھر بند ہوئی تو تیل کی عالمی مارکیٹس کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم اب تجزیہ کاروں نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو پھر بند کرنے کی دھمکی پر خبردار کیا اگر آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوئی تو اس سے تیل کی سپلائی کا کافی بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے جس سے قیمتوں میں شدید تیزی آ سکتی ہے۔
خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد بھی کشیدگی اس وجہ سے برقرار رہی تھی کہ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا اور ایران کا موقف تھا کہ لبنان جنگ بندی میں شامل ہے جبکہ امریکہ و اسرائیل اس سے انکار کرتے تھے تاہم اب لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی 10 روز کی جنگ بندی ہو چکی ہے، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل 10 اور 11 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ و ایران کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے تاہم اب پھر کوششیں جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ہی مذاکرات کا اگلا دور بھی ہو سکتا ہے۔