سعودی خبررساں ایجنسی(ایس پی اے )کے مطابق عازمین حج کی سہولت کے پیش نظر وزارت داخلہ نے 2017 میں ’مکہ روٹ‘ اینیشیٹیو کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد عازمین حج کو انکے ملک میں ہی امیگریشن خدمات فراہم کرنا ہے، تاکہ مملکت پہنچنے پر عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ ایئرپورٹ سے براہ راست اپنے ہوٹلوں میں پہنچ جائیں۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ راوں برس 10 ممالک کے 17 اسٹیشنز سے مکہ روٹ انیشیٹیو پرعمل کیا جائے گا جن میں مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان ، بنگلہ دیش، ترکیہ ، جمہوریہ آئیوری کوسٹ، مالدیپ شامل ہیں جبکہ امسال پہلی بار جمہوریہ سینیگال اور برونائی دارالسلام کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
انیشیٹیو کا مقصد ضیوف الرحمان کو ہرممکن سہولت فراہم کرنا ہے(فوٹو، ایکس)
’مکہ روٹ‘ انیشیٹیو کے تحت عازمین حج کو انکے ملکوں میں ہی امیگریشن کی تمام سروسز فراہم کی جاتی ہیں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عازمین کے سامان کی ٹیگنگ کی جاتی ہے تاکہ مملکت کے ایئرپورٹ پرعازمین حج اپنے سامان کا انتظار نہ کریں بلکہ یہ سامان مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں انکی عمارتوں میں ہی پہنچا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے وزارت داخلہ کی جانب سے شروع کیے جانے والے اقدام میں وزارت خارجہ ، صحت ، حج و عمرہ، میڈیا ، سول ایوی ایشن، کسٹم ، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (سدایا) جنرل اتھارٹی برائے اوقاف ، خدمت ضیوف الرحمان پروگرام اور جنرل ڈائریکٹریٹ آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن شامل ہیں۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز سال 1438 ہجری بمطابق 2017 میں انڈونیشیا سے کیا گیا تھا۔ مسلسل 8 برسوں سے اس پر کامیابی سےعمل درآمد جاری ہے۔ مکہ روٹ اقدام کے تحت اب تک 12 لاکھ 54 ہزار 994 حجاج کو بہترین خدمات فراہم کی جاچکی ہیں۔