Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ٹی اے ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان، موبائل فون کتنے سستے ہوں گے؟

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پی ٹی اے ٹیکس میں کمی کی سفارش کی ہے (فائل فوٹو: بلوم پاکستان)
پاکستان میں موبائل فونز پر عائد ’پی ٹی اے ٹیکس‘ جو بنیادی طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نافذ کردہ مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز پر مشتمل ہے، کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس میں کمی کی سفارش کر دی ہے۔
موبائل فونز پر عائد ٹیکسز میں کمی کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھانے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی سید علی موسیٰ گیلانی نے بھی اپنے بیان میں یہ کہا ہے کہ ان کی پیش کردہ تجاویز پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس میں 50 فیصد تک کمی کی سفارش کی ہے۔
اُردو نیوز نے اس معاملے کے بارے میں مزید جاننے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سید نوید قمر سے رابطہ کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ ’کمیٹی نے یہ سفارش کی ہے کہ ایڈوانس انکم ٹیکس وصول نہ کیا جائے بلکہ صرف عام سیلز ٹیکس نافذ کیا جائے۔‘
اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں حکومت موبائل فون ٹیکس کے حوالے سے صارفین کو 50 فیصد تک ریلیف دے سکتی ہے۔
پی تی اے ٹیکس میں کمی کے حوالے سے ہم مزید کیا جانتے ہیں؟
واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال رکن قومی اسمبلی سید علی موسیٰ گیلانی نے یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ موبائل فونز پر عائد ’پی ٹی اے ٹیکس‘ صارفین کے لیے بوجھ بن چکا ہے اور اسے یا تو مکمل طور پر ختم کرنے یا پھر اس میں بڑے پیمانے پر کمی کی ضرورت ہے۔

حکومت آئندہ بجٹ میں صارفین کو موبائل فون ٹیکس کے حوالے سے ریلیف دے سکتی ہے (فوٹو: فونز دکان)

انہوں نے یہ معاملہ پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں اٹھایا، جس کے بعد کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ طلب کی۔
بریفنگ کے دوران پی ٹی اے نے واضح کیا کہ موبائل فون پر عائد یہ ٹیکس دراصل ان کا براہِ راست ٹیکس نہیں بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے تحت نافذ کردہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز ہیں، تاہم عام طور پر اسے ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا تعلق فون کی رجسٹریشن سے ہوتا ہے۔
بعد ازاں ایف بی آر نے بھی کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ اس ٹیکس نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایک رپورٹ تیار کی جا رہی ہے جس میں ممکنہ اصلاحات اور کمی کی تجاویز شامل ہوں گی۔
گزشتہ روز ایف بی آر کی جانب سے یہ رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی جس کے بعد قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ موبائل فونز پر عائد اس ٹیکس میں کمی کی جائے۔
پی ٹی اے ٹیکس سے کیا مراد ہے؟
پاکستان میں جسے عام طور پر ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل پی ٹی اے کا کوئی الگ ٹیکس نہیں بلکہ درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد سرکاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا مجموعہ ہے، جنہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹمز کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے۔
پی ٹی اے یہ ٹیکس ادا کرنے والے موبائل فونز کو ہی اپنے ڈربز (DIRBS) سسٹم کے تحت رجسٹر اور فعال کرتی ہے تاکہ وہ پاکستان کے موبائل نیٹ ورک پر استعمال ہو سکیں۔

یہ ٹیکس زیادہ تر ان موبائل فونز پر لاگو ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے پاکستان لائے جاتے ہیں (فوٹو: پکسابے)

یہ ٹیکس زیادہ تر ان موبائل فونز پر لاگو ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے پاکستان لائے جاتے ہیں، جیسے آئی فون، سام سنگ، پکسل، ون پلس یا دیگر امپورٹڈ موبائل فونز۔ اس کے علاوہ اگر کوئی مہنگا فون پاکستان کی مقامی مارکیٹ سے خریدا جائے تو بھی نیٹ ورک کے استعمال کے لیے اس کی پی ٹی اے رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے، جس کے بعد ہی فون مکمل طور پر فعال ہوتا ہے۔
پاکستان میں موبائل فون کی پی ٹی اے تصدیق کروانے کا مطلب یہ ہے کہ فون کو پی ٹی اے کے سسٹم کے تحت رجسٹر کیا جائے اور اس کے لیے مختلف سرکاری ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کی جاتی ہیں جن میں کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس اور بعض صورتوں میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور انکم ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں۔
اگر یہ فون بیرونِ ملک سے درآمد کیا جائے تو یہ تمام ٹیکسز الگ سے لاگو ہوتے ہیں اور مجموعی رقم فون کی قیمت کے تقریباً 40 سے 70 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اب چونکہ یہ معاملہ قومی سطح پر زیرِ بحث آیا ہے، اس لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں حکومت موبائل فون صارفین کو اس حوالے سے کسی حد تک ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔

شیئر: