مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی امیدیں، سعودی وزیرِ خارجہ کی چار فریقی اہم اجلاس میں شرکت
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی (فائل فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے انطالیہ میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے مستقل خاتمے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ایک اہم چار فریقی اجلاس میں شرکت کی۔
اس ملاقات میں ان کے ہمراہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، ترکیہ کے ہاکان فیدان اور مصر کے بدر عبدالعاطی شریک تھے۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چاروں وزرائے خارجہ نے خطے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا۔
ان کوششوں کا مقصد خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنا ہے تاکہ دنیا کو جنگ کے سنگین سکیورٹی اور معاشی نتائج سے بچایا جا سکے۔
یاد رہے کہ رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملہ کیا تھا جس کے بعد خطہ میزائل اور ڈرون حملوں کی لپیٹ میں آ گیا اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی عالمی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی۔
تاہم، لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعرات سے نافذ العمل ہونے والے 10 روزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ایران نے جمعے کو اہم اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے اپنی ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی لیکن لبنان اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیش رفت نے مستقل امن کی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریباً طے پا چکا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کے لیے بہتر ہو گا۔ اب تہران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں بچی۔‘
