منی لانڈرنگ کے قانون میں ترمیم، شہری پر سفری پابندی
غیرملکی کو سزا مکمل ہونے کے بعد بلیک لسٹ کردیا جائے گا(فوٹو، ایکس اکاونٹ)
سعودی کابینہ نے انسداد منی لانڈرنگ کے قانون کے بعض آرٹیکلز میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔
اخبار 24 کے مطابق کی جانے والی ترمیم میں سزا یافتہ سعودی شہری پربیرون ملک سفرکی پابندی جبکہ غیرملکی کو ملک بدر اور بلیک لسٹ کیاجائے گا ۔
ترمیم شدہ قانون کی شق 49 کے تحت انسداد منی لانڈرنگ کی مستقل کمیٹی قومی سطح پرعمومی پالیسیاں کی تیار کرے گی، ان پالیسیوں کا باقاعدہ جائزہ لے کر انہیں اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ کمیٹی عالمی تقاضوں اور پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کرے گی جبکہ منی لانڈرنگ کے خطرات کا بھی جائزہ لے گی۔
ترمیم شدہ شق نمبر 28 میں کہا گیا ہے کہ ایسے سعودی شہری جن کو منی لانڈرنگ کے جرم میں قید کی سزا ہو گی ان پر سزا کی مدت کے مساوی عرصے تک بیرون ملک سفر پرپابندی عائد کی جائے گی جبکہ غیرملکی ہونے کی صورت میں اسے سزا پوری کرنے کے بعد ملک بدر کرتے ہوئے مملکت کے لیے بلیک لسٹ کیا جائے گا وہ صرف حج یا عمرہ پر ہی مملکت آنے کا مجاز ہو گا۔
ترمیم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عدالت استغاثہ کی درخواست پر ایسے دیگر اثاثے بھی ضبط کر سکتی ہے جو مجرم کی قانونی آمدن سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ غیرقانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں، جب تک ان کی قانونی حیثیت ثابت نہ ہوجائے۔
اگر کوئی فریق یہ ثابت کر دے کہ اس نے اثاثے مناسب قیمت یا جائز بنیاد پر حاصل کیے ہیں اور اسے ان کے غیرقانونی ماخذ کا علم نہیں تھا، اس صورت میں ضبطی نہیں کی جائے گی۔