Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومتی رپورٹ مفروضوں پر مبنی ہے، کشمیر کو انڈیا کا حصہ دکھایا گیا: شاہد خاقان

حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا رپورٹ 11 اگست کو پیش کی گئی تھی (فوٹو: سکرین گریب)
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت کی 135 صفحات پر مبنی رپورٹ مفروضوں پر مبنی اور اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
جمعے کو اسلام آباد میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس رپورٹ کو جن وزرا نے پیش کیا انہوں نے خود بھی اسے نہیں پڑھا تھا۔
بقول ان کے اس کا ثبوت یہ ہے کہ رپورٹ میں شامل ایشیا کے نقشے میں کشمیر کو انڈیا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’حکومت پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ اس ملک کی سیاسی جماعتیں جو اسمبلیوں اور سینیٹ میں نمائندگی رکھتی ہیں وہ ریاست دشمن ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے لیے حکومت نے کینیڈا کی ٹویٹ میگ نامی کمپنی سے ڈیٹا لیا جو دنیا میں ہونے والے ٹویٹس کا ریکارڈ رکھتی ہے۔
انہوں نے ایک صحافی کی جانب سے کینیڈا کی کمپنی سے رابطہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ کمپنی نے ڈیٹا پاکستانی حکومت کو فروخت نہیں کیا۔
ان کے مطابق ’پھر تو یہ ڈیٹا چوری کیا گیا ہو گا۔‘
انہوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام کا حوالہ بھی دیا کہ جب اس میں وزیر اطلاعات سے پوچھا گیا کہ رپورٹ میں شامل مواد کے سچ ہونے کا ثبوت کیا ہے، تو اس کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ مفروضوں پر مبنی ہے۔
شاہد خاقان عباسی کے مطابق خارجہ پالیسی سمیت دیگر ناکامیاں چھپانے اور اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت اس رپورٹ کو سامنے لائی ہے۔
ان کے مطابق جن پارٹیوں کو اس رپورٹ میں ریاست مخالف قرار دیا گیا انہی کے نمائندے کچھ روز قبل عکسری قیادت کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بھی شامل تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر اطلاعت دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری عکسری قیادت ریاست دشمنوں کو بریفنگ دی ہے؟
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کسی مارشل لا کے دور میں بھی صحافیوں پر اتنی پابندیاں نہیں لگیں جس اس دور میں لگائی گئی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے رپورٹ پیش کیے جانے کے موقع پر مشیر قومی سلامتی معید یوسف کی موجودگی کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا ظاہر کیا گیا جیسے یہ کوئی قومی سلامتی کا معاملہ ہو،
ان کے مطابق ’آج اگر آپ نااہلی اور کرپشن کی بات کریں تو وہ نیشنل سکیورٹی کا ایشو بن جاتا ہے۔‘

شیئر: