Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرق وسطیٰ کی صورت حال، پاکستان سے امریکہ، یورپ جانا بھی مشکل، ٹکٹ انتہائی مہنگے

موجودہ صورت حال میں پاکستان سے خلیجی ممالک میں جانے والی پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورت حال اور فضائی حدود کی بندش نے عالمی ہوا بازی کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے اثرات اب پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک جانے والے مسافروں کے لیے اس وقت ایئر لائنز کے محدود آپشنز دستیاب ہیں، جس کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ٹریول انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ کی تقریباً تمام بڑی ایئر لائنز نے اپنے آپریشن یا تو مکمل طور پر بند کر رکھے ہیں یا انتہائی محدود کر دیے ہیں۔ دبئی، دوحہ، ابوظہبی اور شارجہ جیسے بڑے ایوی ایشن حب جزوی یا مکمل بندش کی زد میں ہیں، جس کے باعث پاکستان سے یورپ، امریکہ اور کینیڈا جانے والے ہزاروں مسافر براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

محدود ایئر لائنز، بڑھتی ہوئی مانگ

ٹریول ایجنٹ نوید وحید کے مطابق پاکستان سے برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک کے لیے اس وقت چند ہی ایئر لائنز دستیاب ہیں۔
’چونکہ مڈل ایسٹ کی تقریباً تمام ایئر لائنز نے آپریشن بند کر رکھے ہیں، اس لیے مسافروں کا دباؤ اب محدود ایئر لائنز پر آ گیا ہے، جس کا براہ راست اثر ٹکٹ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔‘
نوید وحید کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فلائٹس نہ ہونے کے برابر ہیں، سیٹیں بہت کم اور مسافر بہت زیادہ ہیں، اسی لیے مارکیٹ میں کرائے معمول سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
برطانیہ کا ٹکٹ سوا چار لاکھ تک پہنچ گیا
کچھ ایجنٹس کا کہنا ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں پاکستان سے برطانیہ جانے کے لیے ترک ایئر لائن کا ٹکٹ اس وقت تقریباً سوا چار لاکھ روپے میں دستیاب ہے جبکہ عام حالات میں یہی ٹکٹ دو سے ڈھائی لاکھ کے درمیان مل جاتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ محض موسمی نہیں بلکہ براہ راست خطے کی جنگی صورت حال اور فضائی بندش کا نتیجہ ہے۔

برطانیہ کا ٹکٹ سوا چار لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک سینئر ٹریول کنسلٹنٹ کے مطابق ’یہ پہلی بار نہیں کہ عالمی تنازع نے ٹکٹوں کو مہنگا کیا ہو تاہم اس بار یہ مسئلہ یہ ہے کہ متبادل روٹس بھی محدود ہیں۔ مڈل ایسٹ کے راستے بند ہونے سے یورپ اور امریکہ جانے والا زیادہ تر ٹریفک چند مخصوص ایئر لائنز پر منتقل ہو گیا ہے۔‘

امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے دیگر ممالک

نوید وحید نے بتایا کہ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ امریکہ، کینیڈا، ملائیشیا اور دیگر یورپی ممالک کے ٹکٹوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ان کے بقول ’امریکہ اور کینیڈا کے لیے عام دنوں میں جو ٹکٹ تین سے ساڑھے چار لاکھ میں مل جاتا تھا، وہ اب چار سے پانچ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ بعض تاریخوں پر اس سے بھی زیادہ قیمت مانگی جا رہی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی ممالک کے لیے بھی یہی صورت حال ہے، جہاں کنیکٹنگ فلائٹس کی کمی اور لمبے روٹس کے باعث نہ صرف کرایہ بڑھ گیا ہے بلکہ سفر کا دورانیہ بھی کئی گھنٹے زیادہ ہو گیا ہے۔

فلائٹس نایاب، شیڈول غیر یقینی

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ قیمت سے زیادہ فلائٹس کی عدم دستیابی ہے۔ کئی روٹس پر ہفتے میں صرف ایک یا دو پروازیں دستیاب ہیں، جبکہ بعض تاریخوں پر کوئی فلائٹ موجود ہی نہیں۔ اس غیر یقینی صورت حال کے باعث مسافروں کو بار بار اپنی بکنگ تبدیل کرنی پڑ رہی ہے یا سفر مؤخر کرنا پڑ رہا ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر ٹریول ایجنٹس کے مطابق روزانہ درجنوں مسافر ایسے آ رہے ہیں جن کی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں یا غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دی گئی ہیں۔ کئی مسافر ٹکٹ ہونے کے باوجود روانگی کی حتمی تصدیق نہ ملنے پر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

 


ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایئر لائنز کی مجبوری یا کاروباری حکمت عملی؟

ماہرین کے مطابق ایئر لائنز کے لیے بھی یہ صورت حال آسان نہیں۔ فضائی حدود کی بندش کے باعث انہیں متبادل طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کی لاگت اور آپریٹنگ اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ یہی اضافی لاگت بالآخر مسافروں سے وصول کی جا رہی ہے۔
ایک سابق ایوی ایشن عہدیدار کے مطابق ’ایئر لائنز قیمتیں اپنی مرضی سے نہیں بڑھاتیں، بلکہ جب راستے لمبے ہو جائیں، ایندھن مہنگا ہو اور جہاز زیادہ وقت فضا میں رہیں تو کرایہ بڑھانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔‘

 

مسافروں کے لیے مشکلات

مسافر کہتے ہیں کہ ٹکٹ کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ معلومات کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کئی افراد کو آخری لمحے پر بتایا جا رہا ہے کہ ان کی فلائٹ منسوخ ہو چکی ہے یا کسی اور روٹ پر منتقل کر دی گئی ہے۔
برطانیہ جانے والے ایک مسافر مشتاق سولنگی نے بتایا کہ ’ہم نے کئی ماہ پہلے ٹکٹ بک کرایا تھا لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ فلائٹ دستیاب نہیں۔ جو نیا ٹکٹ مل رہا ہے وہ ہماری پہنچ سے باہر ہے۔‘

ماہرین کیا مشورہ دیتے ہیں؟

ٹریول ایجنٹس اور ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں غیر ضروری سفر سے گریز ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ تاہم جن افراد کے لیے سفر ناگزیر ہے وہ ایئر لائن سے براہ راست فلائٹ کی تصدیق کریں، ریفنڈ اور ری شیڈولنگ کی شرائط تحریری طور پر حاصل کریں آخری وقت میں بکنگ سے گریز کریں اور اگر ممکن ہو تو سفر چند ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیں۔
ماہرین کے مطابق جب تک مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال برقرار رہے گی اور فضائی حدود مکمل طور پر بحال نہیں ہوتیں، پاکستان سے یورپ، امریکہ اور کینیڈا جانے والے مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں اور محدود فلائٹس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال یہ بحران نہ صرف سفری منصوبوں بلکہ ہزاروں خاندانوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

ایران پر اسرائیل اور اور امریکہ کے حملے کے بعد خطے میں صورت حال کشیدہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی

پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ایک سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور فضائی حدود کی بندش کے باعث سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان سے خلیجی ممالک کے لیے آج کی مزید 156 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
 کراچی سے دبئی، دوحہ، بحرین، شارجہ، ابوظہبی اور بغداد کی 28 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ ملتان سے دوحہ، دبئی، شارجہ، ابوظہبی اور مسقط کی 22 پروازیں اور فیصل آباد سے دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کی 10 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ سیالکوٹ سے خلیجی ممالک کی آج کی 12 پروازیں بھی منسوخ رہیں۔
حکام کے مطابق لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دبئی، شارجہ اور دوحہ کی 40 پروازیں منسوخ ہوئیں، اسلام آباد سے شارجہ، دبئی، دوحہ اور ابوظہبی کی 28 پروازیں اور پشاور سے ابوظہبی، دوحہ، دبئی، جدہ اور شارجہ کی 16 پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ کوئٹہ سے دبئی کے لیے ایک غیر ملکی ایئر لائن کی دو پروازیں بھی منسوخ ہوئیں۔ ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پروازوں کی اس بڑے پیمانے پر منسوخی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

شیئر: