پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے کمیٹی قائم، پاکستان کے پاس کتنا سٹاک موجود ہے؟
پیر 2 مارچ 2026 10:27
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
کمیٹی عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی مستقبل کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھے گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر جوابی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیشِ نظر وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کی نگرانی کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کا مقصد نہ صرف عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگا کر بروقت حکمتِ عملی مرتب کرنا بھی ہے۔
وزیر خزانہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ وزیر پیٹرولیم، وزیر توانائی (پاور ڈویژن)، وزیر مملکت برائے خزانہ، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری پاور، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، سپیشل سیکریٹری ٹو پرائم منسٹر، ڈاکٹر رضا جعفری (ہیڈ آف ریسرچ آئی ایم ایس)، چیئرمین اوگرا، منیجنگ ڈائریکٹر پارکو، عبدالصمد (ہیڈ آف سپلائی چین پی ایس او)، مسعود نبی (ہیڈ آف پی ایل ایل)، منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے نمائندے اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔
اس وسیع البنیاد کمیٹی کی تشکیل کا مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت توانائی، مالیات، زرمبادلہ، ٹیکس اور سکیورٹی سے متعلق تمام پہلوؤں کو ایک ہی فورم پر لا کر مربوط فیصلے کرنا چاہتی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی مستقبل کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھے گی، موجودہ علاقائی تنازع کے تناظر میں سپلائی چین کی پیش بینی کرے گی اور قلیل و درمیانی مدت میں زرمبادلہ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر سپلائی میں تعطل سے بچنے اور منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری منصوبہ تجویز کرے۔ طویل تنازع کی صورت میں مالیاتی اثرات کا تفصیلی تجزیہ بھی اسی فورم پر کیا جائے گا۔
حکومتی ہدایات کے مطابق کمیٹی روزانہ اجلاس منعقد کرے گی اور اپنی رپورٹ براہِ راست وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ پیٹرولیم ڈویژن کو کمیٹی کے لیے سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر کسی اضافی رکن کو شامل کر سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں مہنگائی، درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں روزانہ کی بنیاد پر نگرانی اور اعلیٰ سطحی رابطہ کاری کو ایک پیشگی حفاظتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے علاقائی صورتحال کے تناظر میں دوست ممالک سے اضافی تیل کی درآمد کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
ماہرین کی جانب سے شہریوں کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کے کم سے کم استعمال کی ذاتی حکمتِ عملی اپنائیں تاکہ حالات مزید سنگین ہونے کی صورت میں ملکی ذخائر پر بوجھ کم ہو۔
پاکستان کے پاس کتنے دنوں کا سٹاک موجود ہے؟
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق ملک میں اس وقت پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کا وافر اسٹاک موجود ہے۔ سرکاری موقف کے مطابق دستیاب ذخائر تقریباً 28 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، جو ریگولیٹری تقاضے کے تحت لازمی 20 دن کے ذخیرے سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی چین معمول کے مطابق فعال ہے اور کسی فوری قلت کا خدشہ نہیں۔
اوگرا کے ترجمان کے مطابق ملک میں تیل کی درآمد، ریفائنری پیداوار اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ڈپوؤں میں موجود اسٹاک کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔
حکومت نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر کمپنیوں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ کم از کم مقررہ دنوں کا لازمی ذخیرہ برقرار رکھا جائے تاکہ کسی غیر متوقع عالمی جھٹکے یا علاقائی تنازع کی صورت میں اندرونی منڈی متاثر نہ ہو۔
