پاکستان میں سائبر حملوں میں اضافہ، کیا یہ انڈیا اور اسرائیل سے کیے گئے؟
پاکستان میں سائبر حملوں میں اضافہ، کیا یہ انڈیا اور اسرائیل سے کیے گئے؟
پیر 2 مارچ 2026 15:36
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
ہیکنگ کے دوران بعض ٹی وی چینلز کی نشریات عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔ فائل فوٹو: فری پک
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی اور ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد پاکستان پر سائبر حملوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چند دنوں سے بیرونِ ملک سے پاکستانی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منظم کوششیں جاری تھیں، تاہم یہ حالات اُس وقت سنگین رُخ اختیار کر گئے جب گزشتہ روز ملک کے مختلف الیکٹرانک میڈیا چینلز اور ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان پر اشتعال انگیز پیغامات نشر کیے گئے، جس سے نہ صرف نشریاتی نظام متاثر ہوا بلکہ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ’یہ حملے ابتدائی طور پر بیرونی ذرائع سے کیے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم حتمی رائے تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔‘
ان حملوں کے دوران بعض ٹی وی چینلز کی نشریات عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور براڈکاسٹ فیڈ میں غیرمجاز مداخلت ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح معروف آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارم ’تماشا‘ کو بھی کچھ دیر کے لیے ہیک کیا گیا۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان سائبر حملوں کے ردعمل میں پاکستان نے بھی انڈیا کے کچھ ٹی وی چینلز اور اسرائیل کی متعدد ویب سائٹس کو ہیک کیا ہے۔
دوسری جانب قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے ان واقعات کا باقاعدہ نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ سسٹمز کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ حملے کس نوعیت کے تھے اور انہیں کس ذریعے یا ذرائع سے انجام دیا گیا۔
این سی ای آر ٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ ’بیشتر حملوں کو بروقت ناکام بنا دیا گیا، تاہم بعض کیسز میں حملہ آور عارضی طور پر نشریاتی یا آن لائن سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔‘
موجودہ حالات میں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھی یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا وہ ان سائبر حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سرکاری ادارے اور عام صارفین اپنی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں سرکاری ادارے، میڈیا ہاؤسز، بینکنگ نظام اور اہم قومی تنصیبات خاص طور پر ہدف بن سکتی ہیں، چنانچہ یہ ضروری ہے کہ نہ صرف ریاستی سطح پر سائبر دفاعی نظام کو مضبوط کیا جائے بلکہ نجی شعبے اور عام صارفین کو بھی سائبر سکیورٹی کے اصولوں اور پروٹوکولز پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی جائے۔
مختلف الیکٹرانک میڈیا چینلز اور ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان پر اشتعال انگیز پیغامات نشر کیے گئے۔ فائل فوٹو: پکسابے
سرکاری اداروں کے ساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے سائبر سکیورٹی ماہر اور سی ای او سائبر سکیورٹی زون محمد اسد الرحمٰن کے مطابق دو ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں سائبر محاذ کی اہمیت غیرمعمولی ہے، اور اس کے لیے پہلے سے تیاری کرنا ضروری ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’ہائبرڈ وار کے تناظر میں موجودہ صورتِ حال میں سپلائی چین حملوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اور ایسے حملوں میں زیادہ تر سرکاری اداروں یا ان سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’جعل ساز کسی بڑے پلیٹ فارم یا سرکاری اداروں سے منسلک افراد کے اکاؤنٹس ہیک کر کے وہاں سے ایسا پیغام نشر کر سکتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہو۔‘
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’ان حالات سے بچنے کے لیے صرف یہ اعلان کر دینا کہ کوئی مخصوص ایپلیکیشن استعمال نہ کی جائے، مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے، کیونکہ بعض ایپلیکیشنز روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی متبادل پلیٹ فارمز تیار رکھے، مکمل ٹیسٹنگ کرے اور ہنگامی حالات میں واضح لائحہ عمل مرتب کرے تاکہ ایسے مواقع پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘
عام سوشل میڈیا صارفین کیسے بچ سکتے ہیں اور کیا وی پی این استعمال کرنا چاہیے؟
اسد الرحمٰن نے زور دیا کہ ’سوشل میڈیا صارفین کو مصدقہ معلومات پر انحصار کرنا چاہیے اور اپنے اکاؤنٹس میں ٹو سٹیپ ویریفکیشن لازمی طور پر فعال رکھنی چاہیے تاکہ ان کا اکاؤنٹ ہیک کر کے کوئی ان کی فالوونگ کا غلط استعمال نہ کر سکے۔‘
مزید برآں انہوں نے وی پی این کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہمارے ہاں عام طور پر وی پی این کو منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘
ان کے مطابق سائبر سیکیورٹی ماہرین خود وی پی این کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وی پی این کے ذریعے جب آپ کوئی ڈیٹا ان پٹ کرتے ہیں یا کسی ویب سائٹ کا وزٹ کرتے ہیں، تو یہ آپ کی پرائیویسی کو انکرپٹ کر کے محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق صارفین کو اپنے فونز کی سیٹنگ کا بغور جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ فائل فوٹو: پکسابے
تاہم انہوں نے یہ نشان دہی بھی کی کہ مستند اور قابلِ اعتماد وی پی این استعمال کرنا چاہیے، اور مفت اور غیر معروف وی پی این کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
’رمضان اور عید کی مناسبت سے جعل ساز متحرک ہو جاتے ہیں‘
خطے کی موجودہ صورتِ حال سے قطعٔ نظر پاکستان میں ہر سال رمضان اور عید کے موقع پر شہریوں کو جعل سازی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رمضان کے دوران مختلف پیغامات، حکومتی پروگراموں یا آن لائن خریداری کے نام پر جعلی لنکس اور پیغامات کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا ایک عام طریقۂ واردات ہے۔
اس حوالے سے اسلام آباد میں موجود سائبر سکیورٹی ماہر احمد حسین کا کہنا ہے کہ ’انٹرنیٹ پر دھوکہ دینے والے ہر موقع کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور اس کے مطابق نئی سکیمیں تیار کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔‘
ان کے مطابق رمضان میں حکومت کی جانب سے چوں کہ مستحقین کے لیے مالی پیکیجز کا اعلان کیا جاتا ہے، اس لیے اسی طرز کے جعلی پورٹل یا فارم بنا کر شہریوں سے قیمتی معلومات حاصل کی جاتی ہیں اور بعد ازاں ان معلومات کو مالی فراڈ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ ’عید کے موقع پر پاکستان بھر میں آن لائن شاپنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جعلی آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے فراڈ کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے اختیاطی تدابیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا صارفین کو کوئی بھی معلومات حاصل کرنے یا آن لائن خریداری کے لیے صرف آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور معتبر ویب سائٹس سے رجوع کرنا چاہیے۔‘