Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی، 15 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی، کاروبار معطل

ٹریڈنگ فلور پر سرمایہ کار شدید گھبراہٹ کا شکار دکھائی دیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے سبب عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی کے اثرات پاکستان تک آن پہنچے ہیں، جہاں پیر کے روز پاکستان سٹاک ایکس چینج میں تاریخ کی سب سے بڑی مندی ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری ہفتے کے آغاز میں ہی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار نظر آئی اور چند ہی منٹوں میں بینچ مارک 100 انڈیکس 15 ہزار سے زائد پوائنٹس گر گیا، جس کے بعد سرکٹ بریکر کے تحت کاروبار روک دیا گیا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بروکرز کے مطابق کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 15 ہزار 344 پوائنٹس کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس ایک لاکھ 52 ہزار 717 پوائنٹس تک آ گیا۔ بعد ازاں اتار چڑھاؤ کے دوران انڈیکس میں کمی 14 ہزار 733 پوائنٹس تک محدود ہوئی اور انڈیکس 1 لاکھ 53 ہزار 329 پوائنٹس پر دیکھا گیا، تاہم مجموعی رجحان شدید مندی کا ہی رہا۔
اس غیر معمولی دباؤ کے باعث جب 100 انڈیکس میں گراوٹ 8.97 فیصد تک پہنچی تو قواعد کے مطابق سرکٹ بریکر نافذ کر دیا گیا اور کاروبار 45 منٹ کے لیے معطل رہا۔
اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس میں بھی 9.42 فیصد کمی ریکارڈ ہونے پر ٹریڈنگ روک دی گئی۔ مارکیٹ انتظامیہ کے مطابق کے ایس ای 30 انڈیکس اگر پانچ منٹ تک پانچ فیصد سے زیادہ گرتا رہے تو خودکار طور پر کاروبار معطل کر دیا جاتا ہے، جبکہ مجموعی طور پر کاروبار ایک گھنٹے کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔
اعلان کے مطابق کاروبار دوبارہ صبح 10 بج کر 22 منٹ پر شروع ہوا۔

عالمی منظرنامہ: تیل، سونا اور ایشیائی منڈیاں

عالمی سطح پر بھی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں چار برس کی سب سے بڑی تیزی دیکھی گئی، جبکہ سونے کی قیمتیں 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ 5400 ڈالر فی اونس تک جا پہنچیں۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں محفوظ اثاثوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ایشیا میں جاپان اور جنوبی کوریا کی سٹاک مارکیٹس میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جہاں جاپانی شیئرز تقریباً 1.9 فیصد اور کورین مارکیٹ 2 فیصد تک نیچے آئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شپنگ لائنز نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر بعض روٹس محدود یا معطل کرنے کے فیصلے کیے ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں مندی کیوں زیادہ؟

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی دیگر منڈیوں کے مقابلے میں پاکستان میں مندی زیادہ گہری رہی، جس کی وجہ بیرونی عوامل کے ساتھ ساتھ مقامی حساسیت بھی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی اور شپنگ میں رکاوٹوں کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی خطرات بڑھنے پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مارکیٹس سب سے پہلے دباؤ میں آتی ہیں، اور پاکستان بھی اس رجحان سے مستثنیٰ نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بیرونی کھاتوں، درآمدی لاگت اور مہنگائی سے جڑے خدشات نے بھی منفی جذبات کو تقویت دی۔
اسماعیل اقبال سکیورٹیز کےریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق عالمی منڈیوں میں دباؤ کے باعث مقامی سٹاک مارکیٹ کو آئندہ دنوں میں بھی دباؤ کا سامنا رہے گا۔ پیر کے روز عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے اور بین الاقوامی ایکویٹیز میں مندی دیکھی گئی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری عسکری تنازع کے کئی ہفتوں تک برقرار رہنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری، یعنی سیف ہیون اثاثوں کی جانب دھکیل دیا ہے۔
ریسرچ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں مارکیٹ دباؤ میں رہ سکتی ہے، تاہم نچلی سطح پر بعض منتخب شیئرز میں ویلیو بائنگ کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب معاشی محاذ پر وزارتِ خزانہ نے جمعے کے روز خبردار کیا کہ معیشت کو مسلسل منفی خطرات لاحق ہیں، جن کی بڑی وجوہات جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہیں۔ تاہم وزارت کے مطابق محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ کے ذریعے مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنے کی توقع ہے۔
ریسرچ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی سے فروری کے عرصے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیوں میں شارٹ فال نمایاں طور پر بڑھ کر 430 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، حالانکہ فروری میں سپر ٹیکس کی مد میں وصولیاں بھی کی گئیں۔

سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ

ٹریڈنگ فلور پر سرمایہ کار شدید گھبراہٹ کا شکار دکھائی دیے۔ کئی بروکریج ہاؤسز کے مطابق فروخت کا دباؤ غیر معمولی تھا اور بیشتر شعبوں میں شیئرز تیزی سے نیچے آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں وقتی جذباتی فیصلے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم قلیل مدت میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی حالات، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے ردعمل پر ہوگا۔ اگر عالمی بے چینی برقرار رہی تو مقامی مارکیٹ میں دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، تاہم کسی حد تک استحکام عالمی سطح پر مثبت اشاروں سے ہی ممکن ہوگا۔
فی الحال، سرمایہ کاروں کی نظریں عالمی خبروں اور مارکیٹ کے دوبارہ کھلنے کے بعد کے ردعمل پر مرکوز ہیں، جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا شدید مندی کے بعد کوئی تکنیکی بحالی آتی ہے یا دباؤ مزید گہرا ہوتا ہے۔

شیئر: