Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سفری پابندیاں: برطانیہ کا پاکستان کو بدستور ریڈ لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ

ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والوں کو 10 دن ہوٹل میں قرنطینہ میں رہنا ہوگا (فوٹو روئٹرز)
برطانیہ نے اپنی ٹریول لسٹ اپ ڈیٹ کی ہے لیکن پاکستان کو بدستور ریڈ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔
جمعرات کو اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا ہے کہ ’پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی۔ ہزاروں پاکستانیوں اور برطانوی نژاد پاکستانیوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’تمام متعلقہ ڈیٹا مہیا کیا گیا تھا۔ مساوات اور معیار پر سوالیہ نشان پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ برطانیہ نے 9 اپریل سے پاکستان سمیت 4 ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ریڈ لسٹ کے دیگر ممالک میں فلپائن، کینیا اور بنگلہ دیش شامل تھے، ریڈ لسٹ والے ممالک سے صرف برطانوی شہریوں یا قیام کی اجازت رکھنے والے افراد کو آنے کی اجازت ہے۔
ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والوں کو 10 دن ہوٹل میں قرنطینہ میں رہنا ہوگا، ہوٹل میں قرنطینہ کے اخراجات میں بھی تقریباً 400 پاؤنڈ کا اضافہ کردیا گیا تھا۔
 برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے دو ہفتوں بعد انڈیا کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا۔ 8 اپریل کو انڈیا کو ریڈ سے ایمبر ٹریول لسٹ میں شامل کردیا گیا تھا۔

شیئر: