Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیلٹ پیپرز غائب ہونے کا اعتراف پھر تردید، تشدد و بدسلوکی:  پی بی 36 قلات کا ضمنی انتخاب ایک بار پھر تنازع کا شکار

بلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 36 قلات کے سات پولنگ سٹیشنوں پر ہونے والا ضمنی انتخاب ایک بار پھر تنازع کا شکار ہوگیا ہے جہاں جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی) کے امیدوار نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انتخابی عمل پر سوال اٹھائے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس ضمنی انتخاب میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے امیدوار میر ضیاء اللہ لانگو کامیاب قرار پائے ہیں۔ انہیں 14 ہزار 281 ووٹ ملے جبکہ جے یو آئی کے امیدوار سردار زادہ میر سعید احمد لانگو 11 ہزار 64 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
بی این پی کے میر قادر بخش کے حصے میں پانچ ہزار 835 ووٹ آئے۔

ڈیڑھ سال کی تاخیر کے بعد ری پولنگ

یہ ضمنی انتخاب سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کے بعد منعقد کی گئی جس میں 2024 کے عام انتخابات میں پی بی 36 کے سات پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ فروری 2024 کے انتخابات میں میر ضیاء اللہ لانگو کامیاب ہوئے تھے اور بعد ازاں بلوچستان کے وزیر داخلہ بنے۔
تاہم مخالف امیدوار کی جانب سے نتائج کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا گیا جس کے بعد ٹربیونل اور پھر سپریم کورٹ نے انہی سات پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا۔
امن و امان کی صورتحال کے باعث یہ ری پولنگ متعدد بار ملتوی ہوتی رہی اور تقریباً ڈیڑھ سال بعد منعقد ہوئی۔

پولنگ کے دوران تنازع:  ویڈیوز، الزامات اور وضاحتیں

منگل کو پولنگ کے دوران سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں بعض پریزائیڈنگ افسران کو یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں فراہم کیا گیا انتخابی مواد مبینہ طور پر ادھورا ہے اور بیلٹ پیپرز کم یا غائب ہیں۔
ایک ویڈیو میں ایک پریزائیڈنگ افسر نے اعتراف کیا کہ بیلٹ پیپر کے اٹھارہ بکس کی بجائے نو بکس ہیں اور باقی گیارہ بیلٹ بکس یعنی  گیارہ سو ووٹ غائب ہیں۔
اسی دوران ایک اور ویڈیو میں جے یو آئی کے امیدوار سعید لانگو اور ان کے ساتھیوں کو ایک پولنگ سٹیشن پر پریزائیڈنگ افسر سے تکرار کرتے دیکھا گیا جس میں ایک موقع پر تلخ کلامی اور   پریزائیڈنگ افسر سے بدسلوکی بھی کی گئی۔
سعید لانگو نے  پرزئیڈنگ افسر کے چہرے  کو دبوچا جبکہ ان کے ایک ساتھی نے انہیں تھپڑ مارا۔
بدسلوکی کی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے ضلعی ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کی اورڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت  جاری کی۔ الیکشن کمیشن نے بھی بیلٹ پیپرز کی کمی سے متعلق خبروں کی تردید کی۔
بعد میں متعلقہ پریزائیڈنگ افسران نے اپنے ابتدائی بیانات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دباؤ میں لایا گیا تھا اور ڈرا دھمکاکر ویڈیوز ریکارڈ کرائی گئیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پولنگ کا عمل  کچھ دیر کے لیے رکا رہا تاہم مجموعی طور پر شفاف تھا۔
جے یو آئی کے امیدوار میر سعید لانگو نے ری پولنگ کے نتائج مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعدد پولنگ سٹیشنوں پر بیلٹ پیپرز غائب تھے اور اس باعث پولنگ کا عمل درست طریقے سے شروع ہی نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ پریزائیڈنگ افسران نے تحریری طور پر بھی اس کمی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ  الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے شکایات کے باوجود ان کے اعتراضات نہیں سنے گئے۔
جے یو آئی کے امیدوارنے الزام لگایا کہ تقریباً چھ ہزار بیلٹ پیپرز کم تھے جو مخالف امیدوار کے حق میں استعمال کیے گئے۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے پورے معاملے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کی شام کو ضمنی انتخاب کے بعد قلات واپس جاتے ہوئے سعید لانگو کے قافلے کو جوہان کے علاقے میں درجنوں مسلح افراد نے یرغمال بنالیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور وں نے سعید لانگو کے 20 سے زائد محافظوں اور ساتھیوں سے اسلحہ چھین لیا اور بعد ازا ں پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔
بی اے پی کی قیادت نے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی نتیجے کو ’عوامی اعتماد کا اظہار‘ قرار دیا ہے۔ حکومت بلوچستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ضیاء اللہ لانگو کو ایک مرتبہ پھر وزیر داخلہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

ضیاء اللہ لانگو کون ہیں؟

ضیاء اللہ لانگو بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ خالد لانگو کے چھوٹے بھائی ہیں جنہیں 2016 میں مشتاق رئیسانی کرپشن سکینڈل کیس میں گرفتار کیا گیا۔ ان کی نا اہلی کے بعد ضیاء اللہ لانگو سیاسی میدان میں آئے اور قدوس بزنجو کی حکومت میں مشیر برائے داخلہ رہے۔ 2018 کے انتخابات میں وہ سعید لانگو کو شکست دے کر پہلی بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے اور وزیر داخلہ بنے۔
 

شیئر: