پنجاب میں خالی پڑے صنعتی پلاٹس کو آباد کرنے کے لیے 150 ارب روپے مختص
پنجاب میں خالی پڑے صنعتی پلاٹس کو آباد کرنے کے لیے 150 ارب روپے مختص
جمعرات 12 مارچ 2026 6:31
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
بہاولپور انڈسٹریل زون میں آکیوپینسی صرف ایک فیصد تک محدود ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کی صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں صوبے میں انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے اپنی نوعیت کی ایک بڑی سکیم پر کام شروع کیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق صوبے سے 100 کاروباری افراد کو دو ارب روپے تک قرضہ دیا جائے گا کہ وہ انڈسٹری لگائیں۔ اس حوالے سے حکومت آئندہ بجٹ میں 150 ارب روپے مختص کرنے جا رہی ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں انڈسٹریل زونز کی ترقی کا عمل کافی عرصہ سے جاری ہے جو ملک کی معاشی ترقی کی بنیاد کو مضبوط کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ یہ زونز نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ روزگار کی فراہمی، برآمدات میں اضافے اور مجموعی قومی پیداوار میں حصہ ڈالنے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
پچاس کی دہائی سے شروع ہونے والے صنعتی منصوبوں سے لے کر حالیہ سی پیک کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز تک، پنجاب نے متعدد کوششیں کی ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں شروع کیے گئے کئی زونز میں صنعتی یونٹس کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق حالیہ برسوں میں شروع کیے گئے صوبے کے صنعتی زونز کی اوسط آکیوپینسی صرف 58 فیصد ہے جبکہ اربوں روپے کے صنعتی منصوبوں کے باوجود متعدد پلاٹ اب بھی خالی پڑے ہیں۔
مثال کے طور پر بہاولپور انڈسٹریل زون میں آکیوپینسی صرف ایک فیصد تک محدود ہے جبکہ وہاڑی انڈسٹریل سٹی میں یہ شرح 24 فیصد اور بہاولنگر میں 33 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
دیگر بڑے صنعتی مراکز جیسے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور قائداعظم بزنس پارک بھی 100 فیصد تکمیل حاصل کرنے میں ناکام رہے تاہم صرف ایم تھری انڈسٹریل سٹی میں آکیوپینسی 70 فیصد تک پہنچی ہے۔
پنجاب میں انڈسٹریل زونز کی بنیاد پچاس کی دہائی میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے قیام سے پڑی جب صنعتی کلسٹرز جیسے فیصل آباد میں ٹیکسٹائل اور گوجرانوالہ میں آلات کی تیاری کو فروغ دیا گیا۔
سنہ 1980 کی دہائی میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کا آغاز ہوا جن کا مقصد برآمدات پر مبنی ترقی تھا۔ ان زونز میں پنجاب کے کئی علاقے شامل تھے جیسے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے زونز۔ تاہم سنہ 2012 میں خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ کے نفاذ نے ایک نئی جہت دی جہاں وفاقی اور صوبائی سطح پر زونز کی منظوری کا نظام قائم کیا گیا۔
حالیہ کوششوں میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت پنجاب میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی جیسے زونز کو ترجیحی حیثیت دی گئی۔ یہ منصوبہ دو ہزار تیرہ میں پاکستان اور چین کے درمیان معاشی راہداری کے معاہدے کا حصہ ہے جس کا آغاز 2015 سے ہوا اور اس کا ہدف ملک بھر میں 46 ممکنہ زونز کی نشاندہی تھا جن میں سے 9 کو ترجیح دی گئی۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت پنجاب میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی جیسے زونز کو ترجیحی حیثیت دی گئی ہے (فائل فوٹو: ژنہپوا)
پنجاب میں ایم تھری انڈسٹریل سٹی، قائداعظم بزنس پارک اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی جیسے زونز شامل ہیں جو سنہ 2016 سے ترقی کے مراحل میں ہیں۔ پنجاب انڈسٹریل ایسٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ جیسے اداروں نے ان کی ترقی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔
سنہ 2022 تک پنجاب میں قریباً 26 صنعتی ایسٹیٹس اور متعدد خصوصی زونز قائم کیے جا چکے تھے ۔
’سرمایہ دار راغب نہیں‘
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ صنعتی زونز سرمایہ داروں کو راغب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اربوں روپے کی لاگت سے قائم کیے جانے والے صنعتی زونز سرمایہ کاروں کی پہلی چوائس کیوں نہیں، اس کا جواب دیتے ہوئے معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر جہانزیب کہتے ہیں کہ ’یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے کہ کچھ انڈسٹریل زونز میں ایک فیصد بھی آکیوپینسی نہیں ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق مجموعی طور پر پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں سے ہے۔ کاروبار کو آسان بنانا حکومت کی ترجیح نہیں ہے اور دوسرا پاکستان کا انرجی بحران ہے جس نے سرمایہ کار کو یہاں سے بھگا دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہزاروں ایکڑ صنعتی زونز کے لیے مختص کرنا ایک اچھا عمل تھا لیکن یہ صرف ایک پہلو ہے۔ جو اہم پہلو ہے وہ سرمایہ کاری کے لیے موافق فضاء کا ہونا شامل ہے۔ جو غیر یقینی آپ کو اوورآل نظر آ رہی ہے، نئے صنعتی زون بھی اسی کی نذر ہوئے ہیں۔ اور اس بات کا ایک ہی مطلب ہے کہ لوگ پاکستان میں انویسٹ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ سرمایہ کار جذباتی فیصلے نہیں کرتے ان کو صرف اپنے سرمائے کی فکر ہوتی ہے۔‘