مشرقِ وسطیٰ کا بحران: پاکستان میں آٹو پارٹس کی قِلت، گاڑیوں کی قیمتیں بڑھیں گی؟
مشرقِ وسطیٰ کا بحران: پاکستان میں آٹو پارٹس کی قِلت، گاڑیوں کی قیمتیں بڑھیں گی؟
جمعرات 12 مارچ 2026 6:27
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
آٹو ماہرین کہتے ہیں کہ ’فریٹ مارجن زیادہ ہونے سے گاڑیوں کے پُرزہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتی ہوئی عالمی صورتِ حال کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور پاکستان بھی اِن سے متاثر ہو رہا ہے۔
پاکستان میں ایک جانب توانائی کی قلت کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں تو دوسری جانب آٹوموبائل سیکٹر بھی ممکنہ اثرات سے دوچار ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
اس تناظر میں آٹو موبائل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے پاکستان میں درآمدی آٹو پارٹس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ امپورٹڈ گاڑیوں کی مُرمت کے لیے درکار پُرزہ جات کی دستیابی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
اُردو نیوز نے صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پاکستان کی موٹر کار کمپنیوں اور آٹو موبائل ماہرین سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ موجودہ حالات میں یہ مارکیٹ کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
انڈس موٹر کمپنی کے سی ای او علی اصغر جمالی نے بتایا کہ ’اُن کی ٹیم اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی بھی تفصیلی موقف پیش کیا جائے گا۔‘
اس سے قبل ٹاپ لائن سکیورٹیز کی ایک رپورٹ میں انڈس موٹر کمپنی کے موقف کا حوالہ دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جیوپولیٹیکل بحران کے باعث پاکستان میں درآمدی آٹو پارٹس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شپنگ اخراجات میں اضافے اور لاجسٹکس کے مسائل بھی سپلائی چین پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ کمپنی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ممکنہ منفی اثرات کم کرنے کے لیے ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر غور کیا جائے۔
ان سطور میں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری بڑی حد تک درآمدی کٹس یعنی سی کے ڈی پر انحصار کرتی ہے۔ اس طریقۂ کار کے تحت گاڑیوں کے مختلف پُرزے بیرونِ ملک سے پاکستان لائے جاتے ہیں اور یہاں اسمبل کیے جاتے ہیں۔ یہ کٹس زیادہ تر جاپان، جنوبی کوریا، چین، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر آٹو پارٹس کی عالمی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک فوٹو)
موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث شپنگ کے راستے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آٹو پارٹس اور کٹس کی بروقت فراہمی میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
گاڑیوں کے ریویو کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’پاک گیئر‘ کے مالک اور آٹوموبائل ایکسپرٹ مہران خان سہگل کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر عالمی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر آٹو پارٹس بیرونِ ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔‘
’خصوصاً نئے پرزے، جیسے کہ ای سی یو چِپس جو جنوبی کوریا سے منگوائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ استعمال شدہ پُرزہ جات کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے سبب قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔‘ ’گاڑی کے پُرزے نہیں مل رہے‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ سے درآمد شدہ گاڑیوں، خاص طور پر جرمنی کی بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز اور آؤڈی کے نئے اور سیکنڈ ہینڈ سپیئر پارٹس اس وقت دستیاب نہیں ہیں۔‘
مہران خان سہگل نے مزید بتایا کہ ’میری اپنی گاڑی ’سیون سیریز‘ کا ایک شاک خراب ہو چکا ہے، لیکن وہ دبئی سے نہیں مل رہا کیونکہ یہ عام طور پر کارگو کے ذریعے آتے ہیں لیکن آج کل اس راستے سے سامان نہیں آرہا۔‘
’اس وقت درآمد شدہ گاڑیوں خاص طور پر ایم ڈبلیو، مرسیڈیز اور آؤڈی کے سپیئر پارٹس دستیاب نہیں ہیں‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت فریٹ مارجن بھی ڈبل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کے پُرزہ جات کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی۔‘
اسی طرح پاکستان کے آٹوموبائل سیکٹر کے ایک اور ماہر میاں شعیب سمجھتے ہیں کہ یہ حالات اگر برقرار رہے تو مارکیٹ شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حالات اگر جلد ٹھیک ہو گئے تو زیادہ فرق نہیں پڑے گا، لیکن اگر یہ طویل عرصے تک خراب رہے تو سپلائی چین اور مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔‘
میاں شعیب نے یہ بھی واضح کیا کہ ’مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان میں زیادہ پُرزہ جات نہیں آتے بلکہ زیادہ تر تھائی لینڈ سے درآمد ہوتے ہیں اور اس رُوٹ پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات زیادہ نہیں ہوں گے۔‘