Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان حکومت کا 20 ہزار الیکٹرک سکوٹیز رعایتی قیمت پر دینے کا اعلان، فائدہ کیسے اٹھایا جائے؟

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس عمل کو مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل سسٹم استعمال کیا جائے گا۔ (فوٹو: حکومت بلوچستان)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے خواتین، طلبہ و طالبات اور ملازمت پیشہ افراد کے لیے رعایتی قیمتوں پر الیکٹرک سکوٹیز فراہم کرنے کی سکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صوبے کے تمام 34 اضلاع میں ابتدائی مرحلے میں 20 ہزار الیکٹرک سکوٹیز 30 فیصد حکومتی سبسڈی اور آسان ماہانہ اقساط پر فراہم کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے خواتین، طلبہ و طالبات اور ملازمت پیشہ افراد سمیت عام شہری بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ اس کا مقصد شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے بدھ کو اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو جدید اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور الیکٹرک بائیکس سکیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد طلبہ و طالبات، ورکنگ وومن اور عام شہریوں کو باوقار اور کم لاگت سفری سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے باآسانی سفر کر سکیں۔
اس منصوبے کے تحت حکومت بلوچستان الیکٹرک سکوٹی کی قیمت کا تقریباً 30 فیصد حصہ بطور سبسڈی ادا کرے گی جبکہ باقی رقم شہری آسان ماہانہ اقساط کے ذریعے ادا کریں گے۔ اس مقصد کے لیے حکومت بلوچستان نے نیشنل بینک آف پاکستان اور روڈ کنگ موٹر سائیکل کمپنی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت شہریوں کو بائیکس آسان شرائط پر فراہم کی جائیں گی۔
حکومتی منصوبے کے مطابق شہریوں کے لیے ایک الیکٹرک سکوٹی کی مجموعی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپے رکھی گئی ہے جو دو سال کے عرصے میں ادا کی جائے گی۔ اس سکیم کے تحت درخواست منظور ہونے پر شہریوں کو نیشنل بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا ہو گا اور تقریباً 17 ہزار روپے بطور ڈاؤن پیمنٹ (پیشگی) جمع کرانا ہوں گے جبکہ باقی رقم تقریباً چار ہزار روپے ماہانہ اقساط کی صورت میں ادا کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی سبسڈی کے باعث یہ سکوٹیز عام مارکیٹ کے مقابلے میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوں گی۔ مارکیٹ میں اسی نوعیت کی خصوصیات رکھنے والی الیکٹرک سکوٹیز کی قیمت عام طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زائد بتائی جاتی ہے۔
اس سکیم کے لیے صوبے بھر کے شہری آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔ حکام کے مطابق درخواستیں ebikes.finance.gob.pk پر جمع کرائی جا سکتی ہیں اور رجسٹریشن کا عمل 15 دن تک جاری رہے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر یہ سکیم خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔ (فوٹو: حکومت بلوچستان)

حکام کے مطابق اس سکیم میں ملازمت پیشہ خواتین اور طلبہ و طالبات کو ترجیح دی جائے گی۔ درخواست دینے کے لیے شہریوں کو آن لائن پورٹل پر جانے کے بعد فارم میں درج ذیل معلومات فراہم کرنا ہوگی: نام، جنس، شناختی کارڈ نمبر، ضلع، عمر، رابطہ نمبر، ای میل ایڈریس، مکمل پتہ، ملازمت یا آمدن کے ذرائع کی تفصیل، شناختی کارڈ کی فرنٹ اور بیک کاپیاں، لوکل یا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ سائز تصویر اور دیگر کوئی سپورٹنگ دستاویزات۔
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد کامیاب درخواست دہندگان کا انتخاب آن لائن قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس عمل کو مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل سسٹم استعمال کیا جائے گا تاکہ کسی قسم کی مداخلت یا بے ضابطگی کا امکان نہ رہے۔
محکمہ خزانہ کے حکام کے مطابق سکوٹیز کی تقسیم کے لیے ایک ڈیجیٹل لاٹری سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جسے مکمل طور پر قابل تصدیق بنانے کے لیے کرپٹوگرافک طریقہ کار استعمال کیا جائے گا۔ قرعہ اندازی کے نتائج ایک مخصوص ڈیجیٹل ہیش کے ساتھ جاری کیے جائیں گے تاکہ کوئی بھی شہری، صحافی یا آڈیٹر نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق کر سکے۔
بائیک کمپنی کے مطابق اس سکیم کے تحت فراہم کی جانے والی الیکٹرک سکوٹیز جدید خصوصیات کی حامل ہوں گی۔ ان میں 60 وولٹ 32 اے ایچ کی لیتھیم آئن بیٹری نصب ہوگی جسے مکمل چارج ہونے میں تقریباً تین سے چار گھنٹے لگیں گے۔ ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر یہ سکوٹی تقریباً 70 سے 100 کلومیٹر تک سفر کر سکے گی۔
سکوٹی میں ایک ہزار واٹ کا برش لیس الیکٹرک موٹر نصب ہو گا جبکہ اس میں تین مختلف سپیڈ موڈز بھی دستیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش اور سامان رکھنے کے لیے ٹرنک بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ روزمرہ استعمال میں سہولت ہو۔
حکام کے مطابق سکوٹیز دو رنگوں میں دستیاب ہوں گی جن میں سبز اور گلابی (پنک) رنگ شامل ہیں۔ ماضی میں حکومت کی جانب سے طالبات کے لیے پنک سکوٹیز فراہم کی گئی تھیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ پچھلی بار طالبات کو دی گئی پنک سکوٹیز شہر کی سڑکوں پر بہت کم نظر آئیں، لگتا ہے بھائیوں نے ان پر قبضہ کر لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس بار بھائیوں کے لیے بھی الگ سکوٹیز کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ وہ بہنوں کی پنک سکوٹیز استعمال نہ کریں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر یہ سکیم خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 20 ہزار الیکٹرک سکوٹیز فراہم کی جائیں گی جبکہ اگر اس سکیم کی طلب زیادہ ہوئی تو آئندہ مرحلوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 

شیئر: