Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب، ’خلیجی ممالک پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی‘: ترجمان دفتر خارجہ

وزیراعظم کی عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی قیادت سے متعدد ٹیلیفونک گفتگو ہو چکی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں اس دوران خلیجی ممالک سے بھی قریبی رابطے برقرار رہیں گے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ کر رہے ہیں۔ 
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بدھ کو ایرانی کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔
ان کے مطابق ’ہم خلیجی ممالک پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں اور یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس تمام صورت حال میں پاکستان تین نکات پر زور دیتا ہے، تمام ممالک کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور تمام فریق سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل حل کریں۔
افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کابل کی جانب سے اسلام آباد پر حملے جاری ہیں جبکہ اسلام پہلے سے انڈر اٹیک ہے۔
ان کے مطابق افغانستان کے بارے میں ہماری پالیسی پرانی ہے۔
’ہم نے اس سے ضمانت مانگی ہے کہ اس کی سرزمین سے حملے نہ ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران نے چار ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جا چکا ہے اور اٹھارہ سو پاکستانی آذربائیجان و دیگر مقامات کے راستے رکاوٹوں کو عبور کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق مشرق وسطیٰ سے لوٹنے والوں کی تعداد ایران سے آنے والوں کی تعداد سے کم ہے۔
انہوں نے ایران کے تیل بردار جہازوں سے متعلق معاملات کو ایران اور متعلقہ حکومتوں کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر پاکستان کوئی مخصوص موقف نہیں رکھتا۔
اسی طرح ایران اور انڈیا کے درمیان معاملات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس پر براہ راست تبصرہ نہیں کر سکتا۔
ان کے بقول ’پاکستانی قیادت کے ایران سمیت خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے جاری ہیں۔‘
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے رابطے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تین بار گفتگو ہو چکی ہے جبکہ وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی رابطہ کر کے خطے کی صورت حال پر بات کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں اس دوران خلیجی ممالک سے بھی قریبی رابطے برقرار رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی قیادت سے متعدد ٹیلیفونک گفتگو ہو چکی ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مختلف دارالحکومتوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک وزیراعظم کے ایران کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

شیئر: